اسرائیلی فوج جنوبی لبنان نہیں چھوڑے گی، نیتن یاہو کا دوٹوک اعلان

اسرائیل نے مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے دوران اپنے اہم اہداف حاصل کیے ہیں، اسرائیلی وزیر اعظم

تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں قائم سکیورٹی زون میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گی اور وہاں سے انخلا کا فیصلہ صرف اسرائیل کی سکیورٹی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

اپنے بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کے شمالی علاقوں اور تمام شہریوں کے تحفظ کے لیے جنوبی لبنان میں فوجی موجودگی ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ضرورت محسوس کی جائے گی، اسرائیلی فوج وہاں تعینات رہے گی اور اس پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے ایران کے جوہری پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے دورِ حکومت میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے دوران اپنے اہم اہداف حاصل کیے ہیں اور ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اگر اسرائیل اور اس کے اتحادی اقدامات نہ کرتے تو ایران آج جوہری ہتھیاروں کے حصول کے بہت قریب پہنچ چکا ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کے انقلابی گارڈز کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے اثرات طویل عرصے تک برقرار رہیں گے۔

دوسری جانب حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے اسرائیلی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ لبنان اپنی سرزمین پر اسرائیلی فوجی موجودگی کو قبول نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی کا مناسب جواب دیا جائے گا۔

نعیم قاسم نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے امریکا کو قائل کرنے کی کوشش کی، لیکن اس حکمت عملی سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔ ان کے بقول ایران تمام تر دباؤ کے باوجود پہلے سے زیادہ مضبوط اور منظم ہو کر سامنے آیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی مسلسل موجودگی خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، جبکہ حزب اللہ کے سخت ردعمل نے مستقبل میں نئے تنازعات کے خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ لبنان کی صورتحال، اسرائیل کی سکیورٹی پالیسی اور ایران سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ کی سیاسی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

Load Next Story