واشنگٹن کا دباؤ، اسرائیل جنوبی لبنان سے مرحلہ وار فوجی انخلا پر غور کرنے لگا
تل ابیب: اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی فوجی موجودگی کے مستقبل کے حوالے سے ممکنہ امریکی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی حکمت عملی پر غور کر رہا ہے۔
ترک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے ’کان‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی حکام اس امکان کا جائزہ لے رہے ہیں کہ مستقبل میں امریکا جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے درمیان ایک نئے مذاکراتی دور کا آغاز آج متوقع ہے، جس میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے ممکنہ انخلا کے ابتدائی انتظامات پر بات چیت کی جائے گی۔
یہ مذاکرات لبنانی فوج کے لیے ایک پائلٹ پروگرام کے تحت کیے جا رہے ہیں تاکہ علاقے میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں بتدریج لبنانی فورسز کے حوالے کی جا سکیں۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات امریکی ثالثی میں ہوں گے، جبکہ اسرائیل اور لبنان کے سفیروں کے علاوہ اسرائیلی فوج کے تین بریگیڈیئر جنرل بھی مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ اس عمل کا مقصد جنوبی لبنان میں کشیدگی کم کرنا اور جنگ بندی کو مزید مستحکم بنانا بتایا جا رہا ہے۔
🚨 Israel preparing for possible US demand to withdraw from southern Lebanon, according to reports
— Anadolu English (@anadoluagency) June 23, 2026
🗺️ New round of talks between Israel and Lebanon is set to begin Tuesday to discuss initial arrangements for a possible Israeli troop withdrawal from southern Lebanon… pic.twitter.com/1dvvYh6K5c
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو جنوبی لبنان میں کئی ماہ سے جاری فوجی کشیدگی میں کمی آسکتی ہے۔ تاہم اسرائیلی حکومت اور لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے درمیان اعتماد کی کمی اب بھی ایک بڑا چیلنج سمجھی جا رہی ہے۔
امریکی کوششوں کو خطے میں استحکام کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں ہونے والے مذاکرات کے نتائج مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال پر نمایاں اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔