یلو لائن بی آر ٹی مبینہ کرپشن کیس:ملزم 5روزہ جسمانی ریمانڈ پر اینٹی کرپشن کے حوالے
اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن بی آر ٹی منصوبے میں ساڑھے 8 ارب روپے کی مبینہ کرپشن کے کیس کی سماعت ہوئی، جس میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی سمیت دیگر ملزمان کے خلاف ابتدائی رپورٹ عدالت میں جمع کرادی۔
رپورٹ کے مطابق یلو لائن بی آر ٹی کے تین اہم تعمیراتی منصوبوں، نیو جام صادق پل، داؤد چورنگی پر ڈپو ون اور انڈس اسپتال کے قریب ڈپو ٹو کی تعمیر میں مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ منصوبے میں مالی نظم و ضبط کو نظر انداز کیا گیا اور افسران نے مبینہ طور پر ٹھیکیداروں کو فائدہ پہنچایا۔ دستاویز کے مطابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی اور ڈائریکٹر پروکیورمنٹ جھامن داس پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام ہے، جبکہ بغیر بینک گارنٹی اربوں روپے کی ایڈوانس ادائیگیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران ملزم ضمیر عباسی کو سٹی کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں اینٹی کرپشن پولیس نے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو لاہور سے ٹرانزٹ ریمانڈ پر گرفتار کر کے لایا گیا ہے اور کیس کی مزید تفتیش کے لیے ریمانڈ ضروری ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ اب تک ایک اور ملزم کی تلاش جاری ہے۔
عدالت میں سوالات کے دوران فریقین نے گرفتاری کے طریقہ کار اور ریمانڈ کی مدت پر بھی دلائل دیے، جبکہ وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ مقدمہ بے بنیاد ہے، گرفتاری غیر قانونی ہے اور ابھی تک کرپشن کے واضح شواہد سامنے نہیں آئے۔ وکیل نے کہا کہ پروجیکٹ میں ایڈوانس ادائیگیاں معاہدے کا حصہ تھیں اور تمام منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔
ملزم ضمیر عباسی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف مقدمہ جھوٹ پر مبنی ہے اور ان کی گرفتاری سے قبل کوئی باقاعدہ انکوائری نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سی ایم آئی ٹی رپورٹ صرف ابتدائی فائنڈنگز پر مشتمل ہے۔
عدالت نے ملزم کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر اینٹی کرپشن کے حوالے کردیا، عدالت نے حکم دیا کہ ملزم کو 27 جون کو دوبارہ پیش کیا جائے، عدالت نے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔