امریکی صدر کی ذہنی اور جسمانی صحت تیزی سے خراب ہو رہی ہے، ٹرمپ کی بھتیجی کا بڑا دعویٰ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھتیجی میری ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے چچا کی جسمانی اور ذہنی صحت بتدریج خراب ہو رہی ہے اور اس صورتحال کو مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق میری ٹرمپ نے اپنے ہفتہ وار نیوز لیٹر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صحت سے متعلق جاری بحث پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کی ذہنی اور جسمانی حالت میں مسلسل تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔
میری ٹرمپ نے لکھا کہ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ بعض مواقع پر بظاہر منطقی اور معمول کے مطابق نظر آتے ہیں، تاہم ان کے رویے اور طرزِ عمل میں ایسی علامات موجود ہیں جو ذہنی اور نفسیاتی مسائل کی نشاندہی کرتی ہیں۔
انہوں نے صدر ٹرمپ کی رات گئے سوشل میڈیا پر کی جانے والی پوسٹس اور بعض غیر معمولی بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بقول صدر نفسیاتی طور پر تنزلی کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔
میری ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت مسلسل دباؤ اور اپنی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کے احساس سے دوچار ہیں۔ ان کے مطابق امریکی صدر کو سب سے زیادہ خوف عوامی تذلیل اور ناکامی کے تاثر سے ہوتا ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے میری ٹرمپ کے الزامات اور دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی ذمہ داریاں مکمل طور پر انجام دے رہے ہیں اور ان کی صحت کے بارے میں کی جانے والی قیاس آرائیاں درست نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی امریکی میڈیا اور مختلف سرویز میں صدر ٹرمپ کی عمر، ذہنی صلاحیت اور جسمانی فٹنس کے حوالے سے بحث ہوتی رہی ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس متعدد بار سرکاری طبی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے صدر کی صحت کو تسلی بخش قرار دے چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی سیاسی شخصیت کی صحت کے بارے میں حتمی رائے صرف مستند طبی معائنے اور سرکاری میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر ہی قائم کی جا سکتی ہے، جبکہ خاندانی افراد کے بیانات سیاسی اور ذاتی اختلافات سے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔