بچپن میں میٹھے مشروبات ادھیڑ عمری میں کن مسائل کا سبب بن سکتا ہے؟

تحقیق میں 25 سال تک 9 سے 16 سال عمر کے 25 ہزار سے زائد امریکیوں کا جائزہ لیا گیا

ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بچپن میں پھلوں کے جوس، سافٹ ڈرنکس اور دیگر میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال جوانی اور ادھیڑ عمری میں ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے۔

امیریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے کی گئی اس تحقیق میں 25 سال تک 9 سے 16 سال عمر کے 25 ہزار سے زائد امریکیوں کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جو بچے روزانہ 12 اونس (تقریباً 355 ملی لیٹر) کے دو یا اس سے زیادہ میٹھے مشروبات پیتے تھے، ان میں ہائی بلڈ پریشر ہونے کا خطرہ اُن افراد کے مقابلے میں 52 فی صد زیادہ تھا جو ہفتے میں تین سے کم بار ایسے مشروبات استعمال کرتے تھے۔

ہائی بلڈ پریشر ایک ایسی حالت ہے جس میں خون رگوں کی دیواروں پر معمول سے زیادہ دباؤ ڈالتا ہے۔ یہ مسئلہ دل اور گردوں کی بیماریوں، فالج اور یادداشت کی خرابی (ڈیمنشیا) کے خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔

امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق 12 کروڑ 50 لاکھ سے زائد امریکی بالغ افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں۔

ہارورڈ ٹی ایچ چین اسکول آف پبلک ہلتھ سے وابستہ وسانتی ملک کے مطابق زندگی کے ابتدائی برسوں میں اپنائی گئی غذائی عادات صحت پر دیرپا اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہائی بلڈ پریشر اب کم عمری میں بھی زیادہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ نوجوان بالغوں، بچوں اور نوعمروں میں اس کی شرح بڑھ رہی ہے، جو اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ اس کی بروقت تشخیص اور روک تھام پر توجہ دی جائے۔

Load Next Story