اپوزیشن لیڈر کی تقریر پر اسپیکر قومی اسمبلی کی گفتگو، محمود اچکزئی نے ایاز صادق کو آئینہ دکھا دیا

فوج کے خلاف بات میں کرتا ہوں یا اسپیکر صاحب آپ کرتے ہیں، اپوزیشن لیڈر کا ایاز صادق کو جواب

اسلام آباد:

اپوزیشن لیڈر کی تقریر پر اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے گفتگو کرنے پر محمود اچکزئی نے ایاز صادق کو سخت جواب دیتے ہوئے آئینہ دکھا دیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا تو اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اظہار خیال کیا۔

اپوزیشن لیڈر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کل آپ نے میری باتوں کا جواب دیا لیکن آپ اسپیکر ہیں آپ نے ہماری باتوں کا جواب نہیں دینا ہوتا، میں اخلاقیات کے دائرے میں آپ کی باتوں کا جواب دیتا ہوں۔ آپ نے کسی تقریر کا حوالہ دیا اور پتہ نہیں کیا کیا باتیں کیں، میں نے چمن میں تقریر پشتو زبان میں کی، میجر عامر کی ڈیوٹی لگائیں وہ پشتو سمجھتا ہے۔

محمود اچکزئی نے کہا کہ میں نے کہا یہاں کوئی قانون ہے اور نہ عدالت ہے جو کرنا ہے خود کرنا ہے، میں نے کہا عدالتوں سے پیچھے ہٹو اور خود پنچایتوں کے ذریعے فیصلے کرو، حکومت غریبوں کا کام کرے گی تو آپ کو سپورٹ کریں گے لیکن آپ گولیاں ماریں گے اور جیلوں میں ڈالیں گے تو مخالفت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ آپ نے کہا تھا کہ آرمی چیف کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں، آپ نے کہا کہ آرمی چیف نے کہا کہ جاسوس کو چھوڑو ورنہ انڈیا حملہ کر دے گا، آپ کا تعلق مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سے مجھ سے پرانا نہیں، آپ کی فوج سے محبت کب سے جاگی ہے۔

محمود اچکزئی نے کہا کہ اسپیکر صاحب آپ آئین اور جمہوریت کی بات کرتے ہیں، اگر آئین اور جمہوریت ہے تو آئین ان ججوں کو قومی ہیروز قرار دیں جنہوں نے آمریت کے خلاف استعفے دیے، جن ججوں نے آمریت کے پی سی او کے حلف اٹھائے آئیں انہیں آئین شکن قرار دیں، آئیں اس پارلیمان کو آزاد کرنے کا معاہدہ کریں۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ہم صرف فوج کو متنازع ہونے سے بچانا چاہتے ہیں، فوج کے خلاف بات میں کرتا ہوں یا اسپیکر صاحب آپ کرتے ہیں، میں اب بھی کہتا ہوں موجودہ آرمی چیف اس پارلیمان کو آئین کے مطابق چلنے دیں، میں اس کے ہاتھ چوموں گا۔ مجھے کل کی آپ کی بطور اسپیکر گفتگو پر دکھ ہوا، ہمیں نہ چھیڑیں ورنہ بہت تنگ ہوں گے۔

محمود اچکزئی کے اظہار خیال کرنے کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ میں نے 1998 میں خط لکھ کر پی ٹی آئی چھوڑ دی تھی، نواز شریف حکومت میں نہیں تھے اور مسلم لیگ ن جوائن کی، میں نے شاہ محمود کے لیے بات کی جو غلط بیان کی گئی، آپ نے مجھے حوالدار کہا اور مسکرا کر جواب دیا۔

آپ نے کہا کہ میں نے آئین کی خلاف ورزی کی، میں نے کہاں پر آئین کی خلاف ورزی کی؟ ہمارے درمیان تعلق اور عزت کا رشتہ ہونا چاہئیں، میں نے کسی کی دل آزاری کرنے کی بات نہیں کی جبکہ میں نے آپ کو مقررہ وقت سے دگنا ٹائم دیا۔

Load Next Story