انگلینڈ میں کم عمر سوریا ونشی کے لیے علیحدہ ڈریسنگ روم، کون سے پروٹوکول طے کیے گئے؟
بھارت کے 15 سالہ ابھرتے ہوئے کرکٹر ویبھو سوریا ونشی کو انگلینڈ کے خلاف آئندہ پانچ ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کے دوران اپنے ساتھی کھلاڑیوں سے الگ ڈریسنگ روم استعمال کرنا ہوگا۔
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کے حفاظتی ضوابط کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا ہے جو 16 سال سے کم عمر کھلاڑیوں کے لیے نافذ ہیں۔
رپورٹس کے مطابق سوریا ونشی میچز اور ٹیم میٹنگز کے دوران بھارتی ٹیم کے مرکزی ڈریسنگ روم میں موجود رہ سکیں گے، تاہم کپڑے تبدیل کرنے کے لیے انہیں الگ کمرہ استعمال کرنا ہوگا۔ متبادل طور پر وہ مرکزی ڈریسنگ روم میں ایک مخصوص وقت پر اکیلے کپڑے تبدیل کر سکیں گے اور سینیئر کھلاڑیوں کے آنے سے قبل وہاں سے نکل جائیں گے۔
یہی ضوابط بھارت اور آئرلینڈ کے درمیان بیلفاسٹ میں ہونے والے دو ٹی ٹوئنٹی میچوں پر بھی لاگو ہوں گے۔ اس سلسلے میں بھارتی ٹیم کو اسٹیڈیم میں تین علیحدہ کمرے فراہم کیے گئے ہیں اور متعلقہ قوانین سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
ای سی بی کے ترجمان کے مطابق یہ ایک آئی سی سی ایونٹ ہے، اس لیے آئی سی سی کے حفاظتی قواعد بھی نافذ العمل ہیں، جبکہ ای سی بی کی ’’سیف ہینڈز‘‘ پالیسی ہر وقت لاگو رہتی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ کرکٹ ریگولیٹر بھارتی ٹیم کے ٹیم لائژن آفیسر کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ نوجوان کھلاڑی کے لیے تمام حفاظتی تقاضوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
ای سی بی کا کہنا ہے کہ ویبھو سوریا ونشی کے والدین بھی پورے دورے کے دوران ان کے ساتھ موجود ہوں گے۔ اگرچہ عام طور پر کھلاڑیوں کے اہلِ خانہ ٹیم ہوٹل میں قیام نہیں کرتے، تاہم کم عمری کے باعث اس معاملے میں خصوصی رعایت دی گئی ہے۔ بورڈ کے مطابق والدین کی موجودگی نوجوان کھلاڑی کو اضافی معاونت اور نگہداشت فراہم کرے گی۔
اس سے قبل بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے سیکریٹری دیواجیت سائکیا بھی تصدیق کر چکے ہیں کہ سوریا ونشی کے والدین دورۂ انگلینڈ میں ان کے ہمراہ رہیں گے اور ان کے تمام اخراجات بورڈ برداشت کرے گا۔