جماعت اسلامی سازشوں، خفیہ راستوں اور بندوق کی نوک پر تبدیلی کی قائل نہیں، حافظ نعیم

ہم جمہوری جدوجہد اور نوجوانوں میں تبدیلی کے ذریعے ہی انقلاب لاکر فرسودہ نظام ختم کریں گے، کارکنوں سے خطاب

حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی سازشوں، خفیہ راستوں یا بندق کی نوق پر تبدیلی کی قائل نہیں بلکہ جمہوری جدوجہد کے ذریعے انقلاب جاتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع مسجد قباء، فیڈرل بی ایریا بلاک 13 میں منعقدہ ایک روزہ تربیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نشست میں جماعت اسلامی کے کارکنان، ذمہ داران اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

نشست سے صدر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان پروفیسر ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے فلسطین،اقوام عالم کا کردارکے موضوع پرتفصیلی گفتگو کی اور شرکا ء کی جانب سے سوالات کے جوابات بھی دیے۔

حافظ نعیم نے کہا کہ جماعت اسلامی محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ اقامتِ دین کی تحریک ہے، جس کے لیے پوری یکسوئی، استقامت اور اخلاص کے ساتھ جدوجہد کی ضرورت ہے، نظام کا متبادل نظام ہی ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں موجود فرسودہ، ظالمانہ اور استحصالی نظام کا متبادل اسلامی نظام ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے مسلسل اور منظم جدوجہد کی ضرورت ہے۔ حافظ نعیم نے کہا کہ جماعت اسلامی سازشوں، خفیہ راستوں یا بندوق کی نوک پر تبدیلی کی قائل نہیں بلکہ عوام کے دل و دماغ روشن کرکے، ان کی فکری تربیت کرکے اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے انقلاب لانا چاہتی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی ملک گیر سطح پر نوجوانوں کو منظم کر کے تنظیم، تربیت اور اصلاحِ معاشرہ کے تینوں محاذوں پر بیک وقت کام کررہی ہے، اصلاحِ معاشرہ کا مطلب صرف اخلاقی اصلاح نہیں بلکہ معاشرے میں موجود ظلم، ناانصافی اور زیادتیوں کے خلاف جدوجہد بھی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ادارہ عوام کے حقوق سلب کرے یا ان کے ساتھ زیادتی کرے تو اس کے خلاف آواز بلند کرنا اور مزاحمت کرنا بھی اصلاحِ معاشرہ کا حصہ ہے۔ یہ ایک ہمہ جہت عمل ہے جس کے تمام پہلو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور اس کے لیے اجتماعیت ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب جماعت اسلامی عوامی حقوق کی بات کرتی ہے تو بعض نام نہاد دانشور اعتراض کرتے ہیں اور سوال اٹھاتے ہیں، صرف ووٹ حاصل کرلینا کافی نہیں بلکہ کارکنان کی تعداد میں نمایاں اضافہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسے کارکنان تیار کرنے ہیں جو نہ صرف ووٹ ڈالیں بلکہ ووٹ کا تحفظ بھی کریں، عوام کے درمیان موجود رہیں اور اقامتِ دین کے مشن کو آگے بڑھانے میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔

Load Next Story