بھارت: شادی سے چند ماہ قبل منگیتر کو موت کے گھاٹ اتارنے والی سفاک ملزمہ گرفتار
بھارت کی ریاست مہاراشٹر میں شادی سے کچھ ماہ قبل اپنے منگیتر کو موت کے گھاٹ اتارنے والی ایک لڑکی نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ وہ چیتن چوہدری سے محبت کرتی تھی اور کیتن اگروال سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سیا گوئل نے پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں بتایا کہ جب میں نے کیتن سے شادی سے انکار کیا تو اس نے کہا کہ اس کا خاندان بااثر اور امیر ہے، اس لیے میں اس سے شادی سے بچ نہیں سکوں گی اور وہ مجھ ہی سے شادی کرنا چاہتا ہے۔
پولیس نے ملزمہ کے ان دعوؤں کی تصدیق ہونا باقی ہے اور عدالتی کارروائی میں اس کو جانچا جائے گا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز یہ خبر سامنے آئی کہ ریاست مہاراشٹرا میں کیتن اگروال نامی ایک لڑکے کی شادی سے کچھ ماہ قبل موت ہوگئی، شروعات میں کیتن اگروال کی موت کو ایک حادثہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی لیکن بھارتی پولیس کی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ 18 جون کو سیا گوئل نے کیتن اگروال کو اپنی سالگرہ کے موقع پر لوہا گڑھ قلعے سے مبینہ طور پر دھکا دے کر گہری کھائی میں گرا دیا تھا۔
موت کے بعد اس کی منگیتر ملزمہ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک جذباتی اسٹوری شیئر کی جس میں لکھا تھا کہ ’تم مجھے میری سالگرہ پر چھوڑ گئے، واپس آ جاؤ‘۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس نے یہ انکشاف کیا ہے کہ سیا گوئل کا مبینہ طور پر چیتن چوہدری نامی شخص کے ساتھ تعلق تھا، اس لیے ان دونوں نے کیتن اگروال کو راستے سے ہٹانے کے لیے کئی ہفتوں پہلے ہی اسے قتل کرنے کا منصوبہ بنا لیا تھا۔
پولیس نے قتل کرنے اور حادثے کا ڈرامہ رچانے کے الزام میں سیا اور چیتن کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے اور مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔