آبنائے ہرمز میں جہاز پر حملے کے بعد اقوام متحدہ نے انخلا آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا

ادارے کے نئے انخلا فریم ورک کے تحت کئی جہازوں کو کامیابی سے محفوظ مقامات تک منتقل کیا جا چکا ہے

اقوام متحدہ کے بین الاقوامی میری ٹائم ادارے (آئی ایم او) نے خلیج عمان میں ایک تجارتی جہاز پر حملے کے بعد آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں پھنسے جہازوں کے انخلا کے لیے شروع کیا گیا آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔

آئی ایم او کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز نے اپنے بیان میں کہا کہ ادارے کے نئے انخلا فریم ورک کے تحت کئی جہازوں کو کامیابی سے محفوظ مقامات تک منتقل کیا جا چکا ہے، تاہم تازہ حملے کے بعد یہ ضروری ہو گیا ہے کہ انخلا کی فہرست میں شامل تمام جہازوں اور خطے میں موجود دیگر بحری جہازوں کی سلامتی کی ضمانتوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ سمندر میں کام کرنے والے افراد کی حفاظت اولین ترجیح ہے، اس لیے مزید وضاحت اور سکیورٹی صورتحال کا مکمل جائزہ لینے تک انخلا کا منصوبہ عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔

آئی ایم او کے مطابق یہ فیصلہ اس اطلاع کے بعد کیا گیا کہ جمعرات کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک جہاز پر حملہ کیا گیا۔

ادارے نے واضح کیا کہ حملے کا شکار ہونے والا جہاز آئی ایم او کے انخلا پروگرام کا حصہ نہیں تھا۔ادھر برطانیہ کے ادارے **یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز** نے بتایا کہ عمان کے علاقے دہیت سے جنوب مشرق میں تقریباً 7.5 بحری میل کے فاصلے پر ایک مال بردار جہاز نامعلوم نوعیت کے ایک پروجیکٹائل کی زد میں آیا،

جس سے جہاز کے پل (برج) کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا ماحولیاتی آلودگی کی اطلاع نہیں ملی۔واضح رہے کہ آئی ایم او نے منگل کے روز آبنائے ہرمز میں پھنسے بحری جہازوں اور عملے کے محفوظ انخلا کے لیے خصوصی فریم ورک متعارف کرایا تھا۔ ادارے کے مطابق اس وقت آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف تقریباً 600 جہاز اور 11 ہزار کے قریب سمندری کارکن پھنسے ہوئے ہیں۔

Load Next Story