پروفی یا عام کافی؟ جانیے کس مشروب کا انتخاب زیادہ فائدہ مند ہے
حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر ’’پروفی‘‘ نامی مشروب تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، جسے خاص طور پر فٹنس سے دلچسپی رکھنے والے افراد، ورزش کرنے والوں اور مصروف طرزِ زندگی اختیار کرنے والے لوگ پسند کر رہے ہیں۔
پروفی دراصل کافی اور پروٹین کے امتزاج سے تیار کی جاتی ہے، تاہم غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے فوائد اور استعمال کے بارے میں درست معلومات ہونا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق پروفی عام کافی کے مقابلے میں زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس پیدا کر سکتی ہے۔ اس میں شامل پروٹین ہاضمے کے عمل کو نسبتاً سست کر دیتا ہے، جس کے باعث جسم کو توانائی بتدریج ملتی رہتی ہے اور اچانک تھکن یا توانائی میں کمی کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ مشروب بار بار کافی پینے کی خواہش کو بھی کسی حد تک کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پروفی بعض افراد کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے، لیکن اسے مکمل ناشتہ سمجھنا درست نہیں۔ متوازن غذا کے لیے صرف پروٹین کافی نہیں بلکہ فائبر، صحت بخش چکنائیاں اور پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس بھی ضروری ہوتے ہیں تاکہ جسم کو تمام مطلوبہ غذائی اجزا مل سکیں۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ پروفی تیار کرتے وقت کم شکر والا معیاری پروٹین پاؤڈر استعمال کیا جائے، جبکہ کافی کو بہت زیادہ گرم رکھنے کے بجائے نیم گرم یا ٹھنڈا کر کے پروٹین میں ملایا جائے تاکہ مشروب کی ساخت بہتر رہے اور اس کا ذائقہ بھی برقرار رہے۔
دوسری جانب ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ضرورت سے زیادہ پروفی پینے سے کیفین اور پروٹین کی زیادتی بعض مسائل کو جنم دے سکتی ہے، جن میں بے خوابی، بے چینی، دل کی دھڑکن تیز ہونا، معدے کی خرابی اور جسم میں پانی کی کمی شامل ہیں۔ اسی لیے گردوں کے مریضوں اور کیفین سے حساس افراد کو اس مشروب کے استعمال میں خصوصی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کسی شخص کی روزانہ پروٹین کی ضرورت پوری نہیں ہو رہی یا اسے کافی پینے کے فوراً بعد بھوک محسوس ہونے لگتی ہے تو پروفی ایک مناسب متبادل ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم جو افراد پہلے ہی متوازن غذا لے رہے ہیں، ان کے لیے عام کافی بھی بدستور ایک موزوں انتخاب ہے۔
غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ پروفی کو کسی جادوئی صحت بخش مشروب کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ یہ صرف ایک غذائی سہولت ہے، جس کے فوائد کا انحصار اس کے مناسب استعمال، مقدار اور مجموعی غذائی عادات پر ہوتا ہے۔