بھارتی آبی جارحیت کی وجہ سے ہمارے 6 ہزار لوگ جاں بحق ہو چکے، مصدق ملک

سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی سیمینار وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں جاری  ہے

سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی سیمینار وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں جاری  ہے جس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت نہ صرف ہمارے پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرتا ہے بلکہ دنیا کا تیسرا بڑا آلودگی پھیلانے والا ملک بھی ہے، اور بھارت کی وجہ سے ہمارے 6 ہزار لوگ جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 6 ہزار لوگ جنگوں میں بھی نہیں مرتے۔

سندھ طاس معاہدے کی اہمیت، آبی وسائل کے تحفظ اور علاقائی تعاون سے متعلق بین الاقوامی سیمینار میں وفاقی وزراء، سیاسی رہنما، ماہرین اور متعلقہ حکام شرکت کررہے ہیں، افتتاحی سیشن کے موقع پر وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر، سابق صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی لیفٹینٹ جنرل (ر) عامر ریاض، انسٹیٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز کے صدر ایمبیسیڈر جوہر سلیم، سابق وفاقی وزیر قانون احمد بلال صوفی، انڈس واٹر ٹریٹی کمشنر سید مہر علی شاہ سمیت بین الاقوامی آبی ماہرین بھی موجود تھے۔

”سندھ طاس معاہدہ، امن اور علاقائی استحکام کا اہم ذریعہ“ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی شہ رگ ہے جس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ ترمیم، منسوخی یا معطلی ممکن نہیں، بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی ناکام کوششیں کی گئیں جس کے باعث اسے مختلف عالمی فورمز پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، پاکستان پانی کے حق کے تحفظ کے لئے ہر سطح پر اقدامات کرے گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آج ہم محض سندھ طاس معاہدے پر گفتگو نہیں کر رہے بلکہ پاکستان کے 24 کروڑ سے زیادہ عوام کی شہ رگ پر بات کر رہے ہیں۔ وادی سندھ کی تہذیب ہماری قومی شناخت کی بنیاد اور بطور قوم ہماری پہچان ہے۔ ہم اس عظیم تہذیب کے وارث ہیں۔ ہم دریائے سندھ اور اس کے معاون دریائوں کے کناروں پر بسنے والی ایک قوم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پانی ہی زندگی ہے اور دریائے سندھ نے پاکستان کو زندگی عطا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ ہماری شہ رگ ہے اور پاکستان کے 24 کروڑ عوام کو اس کے پانی پر ایک ناقابل تنسیخ حق حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لئے پانی محض ایک وسیلہ نہیں بلکہ زندگی کا مسئلہ ہے، دریائے سندھ کا آبی نظام صدیوں سے دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کی آبیاری کرتا آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی بلند و بالا چوٹیوں سے لے کر پنجاب اور سندھ کے ذرخیز میدانوں تک یہ پانی ہمیں جغرافیہ اور تاریخ سے جوڑتا آیا ہے۔ پاکستان کی کہانی کئی حوالوں سے دریائے سندھ کی ہی کہانی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ 1960ء کا سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی تعلقات میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ ورلڈ بینک کی سرپرستی میں طے پانے والا یہ معاہدہ جنگوں، سیاسی اتار چڑھاؤ اور طویل عرصے کی کشیدگی کے باوجود قائم و دائم رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چھ دہائیوں سے زائد عرصے تک اس معاہدے کی مضبوطی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ تعاون، مکالمہ اور بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری ہی امن کا واحد پائیدارراستہ ہے۔ یہ معاہدہ قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام کی ایک نمایاں مثال ہے جو نیک نیتی کے اصول، معاہدوں کے احترام اور پرامن طریقہ کار سے تنازعات کے حل کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ محض قانونی تصورات نہیں بلکہ وہ بنیادیں ہیں جن پر اعتماد قائم ہوتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے مختلف مواقع پر واضح کیا ہے کہ پاکستان کے عوام کو دریائے سندھ کے پانی پر حق حاصل ہے اور سندھ طاس معاہدے میں نہ تو یکطرفہ طور پر ترمیم کی جا سکتی ہے نہ اسے منسوخ، معطل یا غیر موثر کیا جا سکتا ہے۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ یہ معاہدہ باہمی رضامندی سے وجود میں آیا تھا اور اس میں کسی بھی ترمیم یا نظرثانی کے لئے بھی صرف باہمی رضامندی ہی درکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی ناکام کوششیں کی گئیں اور عالمی سطح پر مختلف فورمز بشمول قانونی فورمز پر شرمندگی سے دوچار ہونا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ جو ڈھانچہ کمزور بنیادوں پر قائم ہو وہ زمین بوس ہو جاتا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اس وقت جب ماحولیاتی تبدیلی کی رفتار تیز ہو رہی ہے، گلیشیئرز غیر معمولی رفتار سے پگھل رہے ہیں اور پانی کی کمی ہمارے عہد کا ایک بڑا چیلنج بن رہی ہے، اس معاہدے کے تحفظ کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی ضرورت کے تحت آج اس فورم پر بین الاقوامی ماہرین کو اکٹھا کیا گیا ہے تاکہ پانی کی قدر، ماحولیاتی تبدیلی، پانی کی کمی اور سب سے بڑھ کر سندھ طاس معاہدے کی اہمیت پر گفتگو کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیاء دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی کا مسکن ہے۔ ہمارا اجتماعی مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ ہم پانی کو تنازعے کے بجائے تعاون کے ذریعے میں تبدیل کریں۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ دریا تہذیبوں کو تقسیم نہیں کرتے بلکہ انہیں جوڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دریا سرحد، سیاست اور نسلوں سے بالاتر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فطرت سرحدوں کو تسلیم نہیں کرتی اور انسانیت کے مشترکہ چیلنجز مشترکہ حل کے متقاضی ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پانی کو روکنے یا بند کرنے کی کوئی بھی کوشش ہمیشہ ناکام ہوتی ہے کیونکہ پانی اپنا راستہ خود بنا لیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا یا طے شدہ انتظامات میں یکطرفہ تبدیلی کی کوشش نہ صرف علاقائی امن و استحکام کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ بین الاقوامی قانون کے وسیع تر فریم ورک کو بھی متاثر کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی معاہدوں کو سہولت کے مطابق معطل یا نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ معاہدوں کا احترام اقوام کے درمیان اعتماد کو برقرار رکھنے اور عالمی نظم کو قائم رکھنے کے لئے ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ پرامن روابط، تعمیری مکالمے اور معاہدے کے دیانتدارانہ نفاذ کے لئے پرعزم رہا ہے تاہم اگر پاکستان کے پانی کو روکنے کی کوشش کی گئی تو ہماری قومی قیادت پاکستان کے عوام کے پانی کے حق کو محفوظ بنانے کے لئے موثر جواب دینے کے عزم پر قائم ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت اطلاعات و نشریات اس تناظر میں میڈیا اور اسٹریٹجک کمیونیکیشن کے کردار کو تسلیم کرتی ہے۔ غلط معلومات اور گمراہ کن بیانیہ کے دور میں ضروری ہے کہ حقائق جھوٹے بیانیہ پر اور سچائی پروپیگنڈے پر غالب ہو۔

انہوں نے کہا کہ ذمہ دارانہ میڈیا افہام و تفہیم، امن کو فروغ دینے اور اعتماد سازی کے اقدامات کو تقویت دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آج اس سیمینار کے ذریعے دنیا بھر سے ممتاز پالیسی سازوں، قانونی ماہرین، ماہرین تعلیم اور پروفیشنل افراد کو یکجا کیا گیا ہے جن کی اجتماعی بصیرت اور آرا یقیناً ہماری سمجھ بوجھ کو بہتر بناتے ہوئے اس اہم بین الاقوامی معاہدے کے تحفظ اور مضبوطی کے لئے قابل قدر سفارشات کی تیاری میں مدد فراہم کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ آج ہمیں اس عزم کا اعادہ کرنا چاہئے کہ ہم ہر صورت نہ صرف اس معاہدے کی حرمت کا تحفظ کریں گے بلکہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کے دریائے سندھ کے پانی پر ناقابل تنسیخ حق کے تحفظ کے لئے بھی ہر ممکن اقدام کریں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی ہزاروں سال سے بہہ رہا ہے، اس نے تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا ہے، یہ آج بھی بلا تعطل زندگی کو سہارا دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم ان پانیوں کو آنے والی نسلوں کے لئے امن اور مشترکہ خوشحالی کی علامت کے طور پر برقرار رکھیں۔

انہوں نے انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز اور تمام شراکت داروں کو اس سیمینار کے انعقاد پر خراج تحسین پیش کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کے عوام کے پانی پر حق کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ہم تمام بین الاقوامی فورمز پر کوششیں کریں گے، بھارت کی جانب سے اس معاہدے میں تبدیلی یا اسے یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی غیر قانونی کوششیں کی جا رہی ہیں جو ممکن نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پانی کا حق ہمیشہ مقدس رہے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے عوام زیادہ تر زراعت پر انحصار کرتے ہیں، زراعت ہمارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ماحولیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں تاہم ہمیں آج یہ عزم کرنا چاہئے کہ یہ معاہدہ برقرار رہے گا اور پاکستان دریائے سندھ سے جڑے پاکستانیوں کے ذریعہ معاش اور زندگیوں کے تحفظ کے لئے اپنے عزم پر ثابت قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے سے ہماری زراعت، خوراک اور معیشت جڑی ہوئی ہے، اور یہ معاہدہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور امن کے لیے ہے۔

مہر علی شاہ کے مطابق معاہدے میں مسائل کے حل کا جامع طریقہ کار موجود ہے اور مجموعی طور پر اس میں 12 شقیں شامل ہیں، جبکہ فریقین کو دریاؤں کے بہاؤ سے متعلق معلومات فراہم کرنا لازمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر معاہدے کے تحت مسائل حل نہ ہوں تو معاملہ ثالث کے پاس جاتا ہے، اور شق 9 کے تحت معاملہ عالمی ثالثی عدالت کے پاس بھی لے جایا جا سکتا ہے۔

مہر علی شاہ نے کہا کہ پاکستان متنازع بھارتی بجلی گھر کے معاملات پر دو بار ثالثی عدالت سے رجوع کر چکا ہے، اور عالمی ثالثی عدالت دو بار معاہدے کی وضاحت بھی کر چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ثالثی عدالت واضح کر چکی ہے کہ بھارت معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا، اور عدالت نے بھارت کو مغربی دریاؤں کے بہاؤ میں خلل نہ ڈالنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

ان کے مطابق بھارت کا یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل کرنا خلاف ورزی ہے، جبکہ بھارت اگست 2023 سے معاہدے پر عمل نہیں کر رہا۔

انہوں نے کہا کہ مرالہ ہیڈورکس پر ایک دن پانی بہت کم تو دوسرے دن سیلابی صورت میں بھارت سے آتا ہے، یہ ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ انصاف کا مسئلہ ہے کیونکہ پانی کے بہاؤ پر کنٹرول اصل مسئلہ ہے۔

مصدق ملک کے مطابق بھارت نہ صرف ہمارے پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرتا ہے بلکہ دنیا کا تیسرا بڑا آلودگی پھیلانے والا ملک بھی ہے، اور بھارت کی وجہ سے ہمارے 6 ہزار لوگ جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 6 ہزار لوگ جنگوں میں بھی نہیں مرتے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کر کے اسے بطور ہتھیار استعمال کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ دنیا کے مضبوط ترین معاہدوں میں سے ایک ہے جو دو ہمسایہ ملکوں کے درمیان تین جنگوں میں بھی قائم رہا، اور اگر یہ معاہدہ قائم نہ رہا تو پھر دنیا کا کوئی بھی معاہدہ قائم نہیں رہ سکتا۔

انہوں نے کہا کہ کسی ایک ملک کو علاقائی اور عالمی امن کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم عالمی ثالثی عدالت سے بھی رجوع کر چکے ہیں، جو واضح فیصلے دے چکی ہے کہ کوئی ملک یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل یا ختم نہیں کر سکتا، نہ ہی پانی کے بہاؤ کو یکطرفہ موڑا جا سکتا ہے، اور نہ ہی پاکستان کے حصے کے پانیوں پر ذخائر بنائے جا سکتے ہیں، تاہم بھارت ان فیصلوں کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ معاہدہ کامیاب نہیں ہوا تو پھر دنیا کے ہر نشیبی ملک کے حصے کا پانی روکا جائے گا، اور یہ صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا بھر کا مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو دیگر امور سے منسلک کر رہا ہے، جبکہ پہلگام واقعے کے بعد پاکستان کو معلومات اور تفتیش میں تعاون کے لیے تحریری طور پر رابطہ کرنا چاہیے تھا، لیکن بھارت نے قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائے کشیدگی اور جنگ کا راستہ اپنایا۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر ایک تسلیم شدہ عالمی تنازعہ ہے، اور بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کا معاملہ اقوام متحدہ میں بھی اٹھایا جا چکا ہے، جو اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہر مسئلے کا قانونی پہلو موجود ہے، اور دونوں ممالک کے قانونی ماہرین کے درمیان مکالمے کی ضرورت ہے، جبکہ پاکستان عالمی قانون پر مکمل کاربند ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے  کہ  پانی صرف جغرافیہ نہیں بلکہ خوراک، مستقبل اور زندگی کا سوال ہے، دنیا کو احساس ہو چکا کہ پانی کے وسائل عالمی سیاست اور سلامتی کا مرکزی مسئلہ بن چکے ہیں۔

سندھ طاس معاہدہ سے متعلق بین الاقوامی سمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا کہ پانی صرف جغرافیہ نہیں بلکہ خوراک، مستقبل اور زندگی کا سوال ہے، دنیا کو احساس ہو چکا کہ پانی کے وسائل عالمی سیاست اور سلامتی کا مرکزی مسئلہ بن چکے ہیں۔

سمندری گزرگاہوں یا آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا عالمی امن کے لیے خطرناک رجحان ہے، بلاول بھٹو

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جس طرح آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کو متاثر کرتی ہے، اسی طرح دریائے سندھ کا پانی پاکستان کی زندگی کی ضمانت ہے، سمندری گزرگاہوں یا آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا عالمی امن کے لیے خطرناک رجحان ہے، سندھ طاس معاہدہ کی بحالی کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن ممکن نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے جنگ بندی کی شرائط پر عمل کیا جبکہ بھارت نے اپنے وعدوں کی مکمل پاسداری نہیں کی، سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے حصے کے پانی کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے، سندھ محض ایک دریا نہیں بلکہ کروڑوں شہریوں کی زندگی، زراعت اور معیشت کا ذریعہ ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر پاکستان کا حق بین الاقوامی معاہدے کے تحت تسلیم شدہ ہے، پانی کے معاملے کو محض تکنیکی تنازع نہیں بلکہ قومی سلامتی کے مسئلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، پاکستان کے آبی حقوق کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا قومی سطح پر جواب دیا جائے گا۔

ان کا کہانا تھا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے لیکن اپنے عوام کے بنیادی حقوق اور آبی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، کروڑوں عوام کے حقِ آب کے تحفظ پر پوری پاکستانی قوم متحد ہے، پانی کا سیاسی دباؤ یا بطور ہتھیار استعمال بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے منافی ہے۔

Load Next Story