پاکستان نے انٹرنیشنل اولیو کونسل کے رکن کی حیثیت سے پہلی بار اپنی نشست سنبھالی
پاکستان نے پہلی بار اقوام متحدہ کے تحت قائم انٹرنیشنل اولیو کونسل کے مستقل رکن کی حیثیت سے 123ویں اجلاس میں اپنی نشست سنبھال لی۔
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے پاکستانی وفد کی قیادت کی جبکہ پرتگال میں پاکستان کی سفیر عائشہ فاروقی بھی ان کے ہمراہ تھیں۔
اجلاس میں انٹرنیشنل اولیو کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، چیئرمین اور رکن ممالک نے پاکستان کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔
پاکستان مئی 2026ء میں انٹرنیشنل اولیو کونسل کا رکن بنا تھا، جس کے بعد اسے 27 دیگر زیتون پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ کونسل کے 123ویں اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے اپنے خطاب میں کونسل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے زیتون کے شعبے کی ترقی اور آئی او سی کے مقاصد کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں 55 ہزار 669 ایکڑ رقبے پر 70 لاکھ سے زائد زیتون کے درخت لگائے جا چکے ہیں اور ملک بھر میں زیتون کے کلسٹرز تیزی سے فروغ پا رہے ہیں، پاکستان میں زیتون کی کاشت سے لے کر صارف تک مکمل فارم ٹو فورک ویلیو چین قائم کی جا چکی ہے، جس میں زیتون کے تیل نکالنے کے 51 یونٹس، جدید پراسیسنگ سہولیات، نرسریاں، موسمیاتی اسٹیشنز اور آئی او سی کے معیار کے مطابق چار عدد کوالٹی لیبارٹریاں شامل ہیں۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان اب تصدیق شدہ زیتون کے پودوں کی مقامی سطح پر پیداوار میں خود کفیل ہو چکا ہے، جبکہ گزشتہ سال نیویارک انٹرنیشنل اولیو آئل کمپیٹیشن (NYIOOC) میں سلور ایوارڈ بھی حاصل کر چکا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان عالمی زیتون کے تیل اور ٹیبل اولیوز کے شعبے میں پائیدار اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ ترقی کے لیے بین الاقوامی تعاون میں مثبت اور فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔