سونا مزید سستا ہوگیا، عالمی و مقامی مارکیٹوں میں ہزاروں روپے کی کمی
فوٹو: فائل
امریکا کی عالمی سطح پر ڈالر کی قدر بڑھانے کی غرض سے شرح سود میں اضافے، ٹرمپ کی امریکی گولڈ ایسیٹس کا آڈٹ کرانے کے احکامات اور ایچ ایس بی سی کی چین میں لوکل گولڈ ٹریڈنگ کی بندش کے باعث عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں کمی کا تسلسل برقرار ہے۔
آل پاکستان جیم جیولرز ایکسپورٹرز اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عمران ٹسوری کے مطابق مستقبل میں بھی گولڈ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا انحصار جیو پولیٹیکل صورتحال پر مبنی ہے جبکہ عالمی پلئیرز بھی سونے کے بجائے ڈالر کو مضبوط کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
عمران ٹسوری کے مطابق عالمی ریٹنگ ایجنسی جے پی مورگن نے دسمبر کے اختتام تک عالمی سطح پر فی اونس سونے کی قیمت 6ہزار ڈالر تک پہنچنے کی پیشگوئی کی ہے۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں بدھ کو فی اونس سونے کی قیمت مزید 52ڈالر کی کمی سے 3ہزار 972ڈالر کی سطح پر آنے کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ سونے کی قیمت 5ہزار 200روپے کی کمی سے 4لاکھ 19ہزار 636روپے کی سطح پر آگئی اور فی دس گرام سونے کی قیمت 4ہزار 458روپے کی کمی سے 3لاکھ 59ہزار 770روپے کی سطح پر آگئی۔
اسی طرح عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 1ڈالر 07سینٹس کی کمی سے 57ڈالر 63سینٹس کی سطح پر آگئی۔
کمی کے نتیجے میں مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ چاندی کی قیمت بھی 107روپے کی کمی سے 6ہزار 242روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 92روپے کی کمی سے 5ہزار 351روپے کی سطح پر آگئی۔