پروف آف رجسٹریشن کیس؛ تین افغان خواتین کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا حکم

پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ 1951ء میں پاکستانی شہری کی غیر ملکی بیوی کے لیے 5 سال تک درست ویزا پر قیام کی کوئی شرط نہیں،وکیل

(فوٹو : فائل)

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پروف آف رجسٹریشن کارڈ پر پاکستان میں گزارا گیا عرصہ قانونی قیام  میں شمار نہ کرنے کے خلاف کیس میں تین افغان خواتین کے خلاف تادیبی کارروائی سے روک دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد آصف نے تین پاکستانی شہریوں سے شادی کرنے والی تین افغان خواتین کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزاروں کے وکیل بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی عدالت میں پیش ہوئے۔

وکیل عمر اعجاز گیلانی نے دلائل دیے کہ پاکستانی شہریوں سے شادی کی بنیاد پر تینوں خواتین نے شہریت کی درخواست جمع کروائی، خواتین کی شادیاں ایک دہائی سے زائد عرصے سے قائم ہیں اور خواتین کے بچے پاکستانی شہری ہیں۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ خواتین نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس میں سٹیزن شپ ایکٹ کی دفعہ 10 کے تحت  پاکستانی شہریت کے لیے درخواست دی تھی پاکستانی شہریت کی درخواست شادی کی بنیاد پر دائر کی گئی تھی تاہم ڈی جی آئی اینڈ پی نے جواب میں کہا خواتین پہلے ثابت کریں کہ کم از کم پانچ سال تک درست ویزا اور پاسپورٹ پر پاکستان میں مقیم رہی ہیں۔

وکیل درخواست نے کہا کہ پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ 1951ء میں پاکستانی شہری کی غیر ملکی بیوی کے لیے پانچ سال تک درست ویزا پر قیام کی کوئی شرط موجود نہیں۔ دولتِ مشترکہ سے باہر کی خواتین کے لیے صرف ڈومیسائل ضروری ہے۔ ایکٹ کے مطابق اگر کوئی شخص ایک سال سے پاکستان میں رہ رہا ہو اور یہاں مستقل آباد ہونے کا ارادہ رکھتا ہو تو اسے ڈومیسائل سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ قیام کی پانچ سالہ شرط بعد میں قواعد کے ذریعے شامل کی گئی، یہ شرط بنیادی قانون سے متصادم اور اس کے دائرۂ اختیار سے تجاوز  ہے۔

درخواست گزار وکیل نے کہا کہ سٹیزن شپ ایکٹ کی دفعہ 23 کے تحت حکومت کو قواعد بنانے کا اختیار حاصل ہے، حکومت ایسے قواعد نہیں بنا سکتی جو پارلیمنٹ کی طرف سے دیے گئے قانونی حق کو محدود یا ختم کر دیں۔ پی او آر  کارڈز کے ذریعے پاکستان میں قیام مکمل طور پر قانونی، اور ریاست کی جانب سے تسلیم شدہ تھا۔ جب ریاست خود اس قیام کو تسلیم کرتی ہے تو پھر شہریت کے معاملے میں اسے غیر قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

وکیل نے کہا غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی پلان کے نفاذ کے باعث انہیں خواتین کو ملک بدری کا خطرہ ہے، درخواست گزار وکیل نے استدعا کی کہ پی او آر کارڈ پر پاکستان میں کیا گیا قیام قانونی قرار دیا جائے اور درخواست گزاروں کی شادی کے ذریعے شہریت کی درخواستیں بلا مزید تاخیر منظور کرنے کی ہدایت دی جائے۔ عدالت نے فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

Load Next Story