بھارتی طالبعلم عمر خالد کا مودی سے اختلاف رائے، نوجوان کا مستقبل جیل کی نذر
بھارتی طالب علم عمر خالد کا مودی سے اختلاف رائےسامنے آنے کے بعد نوجوان کا مستقبل جیل کی نذر ہونے پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔
نوجوان بھارتی طالبعلم عمر خالد کا مستقبل مودی حکومت کے سخت ریاستی اقدامات اور الزامات کی زد میں آ گیا۔ اس حوالے سے عالمی جریدے دی گارڈین کے مطابق 2019 میں ملک بھر میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران نوجوان عمر خالد مودی حکومت کے لیے پہلا بڑا چیلنج تھا ۔
دی گارڈین کے مطابق ستمبر 2020 میں مودی حکومت نے نوجوان طالبعلم عمر خالد کو دہشت گرد قرار دے کر جیل بھیج دیا۔ بھارتی حکومت نے عمر خالد پر دہلی کے فرقہ وارانہ فسادات اور حکومت کی تبدیلی کی سازش کا الزام عائد کیا۔ مودی حکومت کے زیر اثر بھارتی میڈیا عمرخالد کو نفرت انگیز انداز میں مسلمان دہشتگرد اور ملک دشمن قرار دیتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عمر خالد نے مودی حکومت کیخلاف 20 کروڑ بھارتی مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کیساتھ ہراسانی اور امتیازی سلوک پر آواز اٹھائی تھی۔
دریں اثنا سینئر کانگریس رہنما راشد علوی نے بھی بغیر ٹرائل اور ضمانت کے عمرخالد کی طویل قید کو بھارت کی بدنامی قرار دیا ہے۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی عمرخالد کی بغیر ٹرائل تقریباً 6 سالہ قید کوغیر منصفانہ قراردے کر سخت تنقید کی ہے۔
دی گارڈین کے مطابق نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے بھی جبری قید پرعمرخالد کو اظہار یکجہتی کے لیے خود پیغام لکھ کربھیجا ہے۔ بھارتی ریسرچر ڈاکٹر بنوجیوتسنا لاہری کے مطابق کسی شخص کو بغیر مقدمے کے قید رکھنا انسانی آزادی اور وقار کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
https://img.express.pk/media/videos/indian_student_umar_khalid_opinion.mp4