توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر نیا بینچ تاحال تشکیل نہ پا سکا

اپیلوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کرنے سے متعلق 12 مارچ کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے

اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف دائر اپیلیں جسٹس خادم حسین سومرو کے بینچ سے منتقل کر دی گئی ہیں، تاہم ذرائع کے مطابق چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ان اپیلوں کی سماعت کے لیے تاحال نیا بینچ تشکیل نہیں دیا۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کرنے سے متعلق 12 مارچ کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔

تحریری حکم نامے میں عدالت نے اپیلیں دائر کرنے میں تاخیر کی معافی کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ اپیل کنندگان کے وکیل کی جانب سے پیش کیا گیا جواز قابل قبول ہے۔ عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی ختم کرتے ہوئے اپیلوں کو باقاعدہ نمبر لگانے کی ہدایت کی۔

حکم نامے کے مطابق وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اپیلیں 30 روز کی قانونی مدت کے اندر، 29 دسمبر 2025 کو دائر کر دی گئی تھیں، جبکہ ٹرائل کورٹ نے 20 دسمبر 2025 کو بانی اور بشریٰ بی بی کو 10، 10 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

وکیل کے مطابق ٹرائل کورٹ کے وکیل کے لیے ہائیکورٹ میں نیا وکالت نامہ جمع کرانا لازمی قانونی شرط نہیں، تاہم رجسٹرار آفس نے اسی بنیاد پر اعتراض عائد کیا۔ وکیل نے بتایا کہ نئے وکالت نامے پر دستخط کرانے کے لیے متعدد بار جیل حکام سے رابطہ کیا گیا، مگر جیل سپرنٹنڈنٹ کے عدم تعاون کے باعث دستخط نہ ہو سکے۔

حکم نامے میں وکیل کا یہ مؤقف بھی درج ہے کہ دیگر اعتراضات معمولی نوعیت کے تھے اور محض تکنیکی بنیادوں پر رجسٹرار آفس اپیلیں واپس نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق اپیل دائر ہونے کے بعد رجسٹرار آفس کا کام اسے اعتراضات کے ساتھ عدالت کے سامنے مقرر کرنا ہے، جبکہ اعتراضات کی قانونی حیثیت کا فیصلہ صرف عدالت جوڈیشل سائیڈ پر کر سکتی ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے قرار دیا کہ اپیل ٹرائل کا تسلسل اور اپیل کنندہ کا قانونی حق ہے، جس میں شواہد کا ازسرِ نو جائزہ لیا جاتا ہے، اس لیے کسی بھی اپیل کنندہ کو محض تکنیکی اعتراضات کی بنیاد پر اس حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ اپیلوں کا فیصلہ فریقین کو سننے اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد میرٹ پر کیا جائے گا۔

Load Next Story