ایلون مسک کی کمپنی کا اے آئی اسمارٹ فون؟ اسپیس ایکس سے متعلق رپورٹ نے ہلچل مچادی
ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس سے متعلق ایک نئی رپورٹ نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کمپنی مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے لیس ایک نئی اسمارٹ ڈیوائس پر کام کر رہی ہے۔ تاہم اس حوالے سے خود ایلون مسک اس رپورٹ کی تردید بھی کر چکے ہیں، جس کے باعث اس منصوبے سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کمپنی نے اس ڈیوائس کا ابتدائی پروٹوٹائپ سرمایہ کاروں اور شیئر ہولڈرز کے سامنے پیش کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ ڈیوائس نہایت پتلے ڈیزائن کی حامل ہے اور شکل و صورت میں ایک جدید اسمارٹ فون سے مشابہت رکھتی ہے، تاہم اس کی بنیادی توجہ روایتی موبائل فیچرز کے بجائے جدید اے آئی صلاحیتوں پر مرکوز ہوگی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسپیس ایکس مستقبل میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ہارڈویئر عام صارفین تک پہنچانا چاہتی ہے تاکہ اس شعبے میں ایپل جیسی بڑی کمپنیوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ زیرِ تیاری ڈیوائس اینڈرائیڈ یا آئی او ایس کے بجائے ایک خصوصی کسٹم آپریٹنگ سسٹم پر کام کرے گی، جبکہ اس میں کوالکوم کا پروسیسر اور ایکس اے آئی کے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز شامل کیے جائیں گے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ اس پروجیکٹ میں ایلون مسک کے ’’ایوری تھنگ ایپ‘‘ یا ’’سپر ایپ‘‘ کے تصور کو بھی شامل کیا جا رہا ہے، جس کے تحت صارفین کو ایک ہی پلیٹ فارم پر میسجنگ، ڈیجیٹل ادائیگیاں، آن لائن خریداری، رائیڈ شیئرنگ، سوشل نیٹ ورکنگ اور دیگر روزمرہ کی ڈیجیٹل سہولتیں میسر آسکیں گی۔
اگرچہ اس رپورٹ نے ٹیکنالوجی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کی ہے، تاہم ایلون مسک اس کی تردید کر چکے ہیں، اس لیے فی الحال یہ واضح نہیں کہ یہ منصوبہ حقیقت کا روپ دھارے گا یا نہیں۔ البتہ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو اسپیس ایکس بھی اُن کمپنیوں کی صف میں شامل ہو جائے گی جو مصنوعی ذہانت سے چلنے والی نئی نسل کی ڈیوائسز تیار کرنے پر کام کر رہی ہیں۔ اس وقت اوپن اے آئی اور ایپل بھی اسی نوعیت کی جدید ٹیکنالوجیز پر تحقیق اور ترقی کے مختلف منصوبوں میں مصروف ہیں۔