یوزر نیم فیچر پر بھارتی خدشات مسترد، واٹس ایپ نے واضح موقف بیان کردیا
میٹا کی ملکیت والی مقبول میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے اپنے متوقع یوزر نیم فیچر سے متعلق بھارتی حکومت کے تحفظات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سہولت کو متعارف کرانے سے پہلے ممکنہ خطرات کا جائزہ لے کر ضروری حفاظتی اقدامات پہلے ہی شامل کیے جا چکے ہیں۔
بھارتی حکومت نے واٹس ایپ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یوزر نیم فیچر متعارف کرانے سے گریز کرے یا کم از کم یہ واضح کرے کہ ایسے نظام میں جعل سازی، فراڈ اور معروف شخصیات کی شناخت اختیار کرنے جیسے مسائل سے کس طرح نمٹا جائے گا۔ حکام کا مؤقف تھا کہ اگر صارفین فون نمبر ظاہر کیے بغیر دوسروں سے رابطہ کر سکیں گے تو دھوکا دہی کرنے والوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
اس معاملے پر واٹس ایپ کے ترجمان نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے فیچر کی تیاری کے دوران انہی خدشات کو مدنظر رکھ کر حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت صرف صارفین کو اپنی پسند کا یوزر نیم محفوظ کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے، جبکہ اس فیچر کا عملی استعمال ابھی شروع نہیں ہوا۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ یوزر نیم فیچر رواں سال مرحلہ وار تمام صارفین کے لیے متعارف کرایا جائے گا۔ کمپنی کے مطابق اس دوران یہ بھی یقینی بنایا گیا ہے کہ عوامی شخصیات، فنکاروں، تصدیق شدہ میٹا اکاؤنٹس، سرکاری اداروں اور دیگر اہم شخصیات کے مخصوص پروفائل نام عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے تاکہ ان کی نقل یا جعل سازی کا امکان کم سے کم رہے۔
واضح رہے کہ واٹس ایپ نے 30 جون کو یوزر نیم فیچر متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔ اس موقع پر کمپنی نے کہا تھا کہ اس نئی سہولت کا مقصد صارفین کی رازداری کو مزید بہتر بنانا ہے، جبکہ معروف شخصیات اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے نام خصوصی طور پر محفوظ رکھے جائیں گے تاکہ ان کے نام پر جعلی اکاؤنٹس بنانے کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔
میٹا کی وضاحت کے مطابق اس فیچر کے بعد واٹس ایپ گروپس میں شامل ہونے یا کسی نئے فرد یا ادارے سے پہلی مرتبہ رابطہ کرنے کی صورت میں صارف کا فون نمبر خودکار طور پر دوسرے فریق کو نظر نہیں آئے گا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ایک بار یوزر نیم منتخب کر لینے کے بعد کسی بھی شخص کو رابطہ کرنے کے لیے متعلقہ صارف کا درست یوزر نیم معلوم ہونا ضروری ہوگا، جس سے فون نمبر شیئر کیے بغیر بھی رابطہ ممکن بنایا جا سکے گا۔