فیفا ورلڈ کپ: راؤنڈ آف 16 میں جرمنی کی مسلسل تیسری ناکامی نے نئی بحث چھیڑ دی

جرمنی کے ہیڈ کوچ جولیان ناگلزمین نے شکست کے بعد اسٹرائیکر ڈینیز اُنداو کو ہدفِ تنقید بنایا

فیفا ورلڈ کپ 2026 میں پیراگوئے کے ہاتھوں شکست کے بعد جرمنی مسلسل تیسری بار راؤنڈ آف 16 میں جگہ بنانے میں ناکام رہا، جس کے بعد قومی ٹیم کی کارکردگی، کوچنگ اور جرمن فٹبال کے نظام پر شدید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

جرمنی کے ہیڈ کوچ جولیان ناگلزمین نے شکست کے بعد اسٹرائیکر ڈینیز اُنداو کو ہدفِ تنقید بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کو میچ کے آغاز ہی میں برتری حاصل کر لینی چاہیے تھی، تاہم آسان موقع ضائع کرنے سے میچ کا رخ بدل گیا۔

تاہم جرمن شائقین نے کوچ کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ناگلزمین کے حکمتِ عملی اور ٹیم سلیکشن کے فیصلوں کو ناکامی کی اصل وجہ قرار دیا۔

رپورٹس کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں کہ اُنداو کو کوچ کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ اس سے قبل بھی ایک دوستانہ میچ میں فیصلہ کن گول کرنے کے باوجود ناگلزمین نے ان کی فٹنس اور کھیل پر سوال اٹھائے تھے بعد ازاں انہیں معذرت بھی کرنا پڑی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جرمنی کی موجودہ صورتحال 2018 کی یاد تازہ کرتی ہےجب عالمی کپ سے جلد اخراج کے بعد میسوت اوزل اور الکائے گنڈوگان کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں اوزل نے خود کو قربانی کا بکرا بنائے جانے کا الزام لگاتے ہوئے بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جرمن فٹبال فیڈریشن (ڈی ایف بی) کو محض کھلاڑیوں پر تنقید کرنے کے بجائے اپنی نوجوان کھلاڑیوں کی تیاری، ٹیم مینجمنٹ، کوچنگ فلسفے اور طویل المدتی حکمتِ عملی کا ازسرِنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ٹیم دوبارہ عالمی سطح پر اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر سکے۔

Load Next Story