جنگ بندی مذاکرات روکنے کیلئے عراقچی اور قالیباف کو قتل کرنے کا اسرائیلی منصوبہ بے نقاب
واشنگٹن: امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز اور دی واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹس میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکام کو رواں سال اس بات کا خدشہ تھا کہ اسرائیل، امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات کو ناکام بنانے کے لیے ایرانی مذاکرات کاروں کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔
رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے بتایا کہ اسرائیل نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر و چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کو ممکنہ طور پر نشانہ بنانے کا منصوبہ تیار کیا تھا۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ اگر ایسے رہنماؤں کو قتل کر دیا جاتا تو اس سے ایران کے اندر نسبتاً اعتدال پسند اور سفارتی حل کے حامی عناصر کمزور پڑ جاتے جس سے مذاکراتی عمل کو شدید نقصان پہنچ سکتا تھا۔
رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا نے اس ممکنہ خطرے کے پیش نظر مشرقِ وسطیٰ کے بعض ممالک سے رابطہ کیا اور ان سے کہا کہ وہ ایران کو اس بارے میں خبردار کریں تاکہ ممکنہ حملے سے بچاؤ کے اقدامات کیے جا سکیں۔
امریکی میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسرائیل ماضی میں بھی مختلف تنازعات کے دوران مذاکراتی عمل میں شامل شخصیات یا گروہوں کو نشانہ بنانے کی پالیسی اختیار کرتا رہا ہے۔
رپورٹ میں اکتوبر کے اس واقعے کا بھی حوالہ دیا گیا جب اسرائیلی فوج نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے ایک کمپاؤنڈ پر حملہ کیا تھا، جہاں تنظیم کے نمائندے جنگ بندی کی تجویز کا جائزہ لے رہے تھے۔
رپورٹس میں اس معاملے پر اسرائیلی حکومت کا باضابطہ مؤقف شامل نہیں کیا گیا جبکہ امریکی حکام کی جانب سے بھی ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کو متاثر کر سکتے ہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔