اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار کی بھارت کے موضوع پر اہم نشست

ایک اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار نے اگلے روز ملک کے سینئر صحافیوں اور تجزیہ نگاروں کو بھارت کے حوالے سے ایک اہم بریفنگ دی۔

msuherwardy@gmail.com

ایک اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار نے اگلے روز ملک کے سینئر صحافیوں اور تجزیہ نگاروں کو بھارت کے حوالے سے ایک اہم بریفنگ دی۔ اس موقع پر سوال وجواب بھی ہوئے۔ اس بات پر کہ بھارت کے میڈیا پر پاکستان پر بہت زیادہ فوکس ہے۔ پاکستانی میڈیا میں بھارت پر وہ فوکس نظر نہیں آتا۔ اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار کا موقف تھا کہ بھارتی حکومت اور ریاست کی یہ ایک سوچی سمجھی پالیسی ہے۔

بھارت کی حکومت اور ریاست اپنے عوام کی بھارتی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے میڈیا میں پاکستان پر فوکس رکھتے ہیں۔ تاکہ لوگوں کو پاکستان میں الجھائے رکھیں اور بھارت کے اندرونی مسائل پر توجہ نہ ہو۔ ورنہ بھارت میں خود اتنے مسائل ہیں کہ ان کے پاس تو میڈیا میں پرائم ٹائم میں پاکستان کے لیے وقت ہی نہیں ہونا چاہے۔ لیکن پاکستان پر فوکس ایک سوچی سمجھی پالیسی کا حصہ ہے۔

 اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ بھارت میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ اقلیتوں سے برا سلوک ہے۔ اس پر سے توجہ ہٹانے کے لیے وہاں عوام کا پاکستان پر فوکس رکھوانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بھارت ایک ہندوتوا زدہ ناکام ریاست ہے تاہم اسے اپنے آپ کو بڑا دکھانے کی عادت ہو چکی ہے ۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو موجودہ صورتحال میں بھارتی ریاست کی ناکامی کی وجوہات بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور مذہبی شدت پسندی ہے۔ صرف بنگال کے انتخابات میں ستر لا کھ سے زائد مسلمان ووٹرز کے ووٹ ختم کر دیے گئے تھے۔ انھیںؓ ووٹ سے محروم کر دیا گیا۔

اسی طرح اب یو پی کے انتخابات میں تین کروڑ سے زائد مسلمانوں کے ووٹ ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بھارت میں بیس کروڑ مسلمان ہیں۔ جب آپ ان کو ووٹ کے حق سے ہی محروم کر دیں گے تو کونسی جمہوریت اور کیسی جمہوریت۔ ان مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے وہاں میڈیا پاکستان پاکستان کرتا رہتا ہے۔ اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بھارت کے اپنے اندر اتنی فالٹ لائنز ہیں کہ وہاں کی ہندوتوا حکومت کو اس سے عوام کی توجہ ہٹانی ہے۔

اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ بھارت کی پارلیمنٹ میں اکھنڈ بھارت کا ایک نقشہ لگا ہوا ہے۔ جس میں خطہ کے آٹھ ممالک کو بھارت کا حصہ دکھایا گیا ہے۔اس پر عالمی سطح پر احتجاج کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک اسرائیل نے ایسا اقدام کیا ہے جہاں ہمیں گریٹر اسرائیل کا نقشہ نظر آتا ہے۔

جس میں خطہ کے ممالک کو اپنا حصہ دکھایا گیا ہے۔ دوسرا بھارت ہے جس کی پارلیمنٹ میں اکھنڈ بھارت کا نقشہ لگا ہوا ہے۔ اس موقع پر سینئر صحافیوں نے بتایا کہ خطہ کے جن ممالک کا اس نقشہ میں ذکر ہے ان کے سفارتکاروں سے بات ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ پہلے پاکستان اس مسئلہ کو عالمی سطح پر اٹھائے تو ہم ساتھ دیں گے۔ جس پر اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ وزارت خارجہ سے اس ضمن میں بات کی جائے گی۔ یہ نقشہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے جو بھارت کے توسیع پسندانہ منصوبوں کا عکاس ہے۔ جس پر ہمارے میڈیا نے کبھی کوئی توجہ نہیں دی۔ اکھنڈ بھارت کا ایک غیر حقیقی خواب اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی عکاسی کرتا ہے ۔

اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہندوتوا نظریہ نے بھارت کے سیکولر چہرے کو مسخ کردیا ہے۔بھارت کی فوج بی جے پی کی متشدد اور مذہبی سیاست کی نذر ہو چکی ہے۔ تقسیم شدہ معاشرہ کی موجودگی میں بھارت کے شائننگ انڈیا ہونے کا نعرہ محض ایک ڈھکوسلا ہے۔ بھارت کی ریاست درحقیقت ایک پولیس اسٹیٹ کا نام ہے جس میں آزادی رائے اور فریڈم آف پریس ریاستی کنٹرول میں رکھا جاتا ہے۔ وہاں بھارت کے مسائل پر بات کرنے کی اجازت نہیں۔ بھارت کے اندر ہونے والے مظالم پر بات کرنے کی اجازت نہیں۔

سکیو رٹی عہدیدار کا کہنا تھا کہ بھارت جانتا ہے کہ ایک دفاعی اور مضبوط پاکستان کے سامنے بھارت کھڑا نہیں ہو سکتا۔ ایک مضبوط پاکستان بھارت کی از خود موت کا سبب ہوگا۔ ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ وہاں اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے۔ مختلف علاقوں میں علیحدگی کی جو تحریکیں چل رہی ہیں، وہ بتا رہی ہیں کہ دنیا کا اگلا سب سے بڑا قتلِ عام بھارت میں ہونے کا خدشہ ہے ،جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ اس قتل عام کی شدت غزہ اور فلسطین سے بھی بڑھ کر ہو گی ۔

ہندوستان میں پائی جانے والی تفریق اور اقلیتوں پر ہونے والے ظلم و ستم ہندوستان کی مزید تقسیم کا شاخسانہ بنیں گے، سیکیورٹی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہندوتوا کے پیروکار یہ سمجھتے ہی نہیں ہیں کہ مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کو بھی جینے کا حق ہے ۔ بھارت کے مسلمانوں کے لیے زندہ رہنے کی پہلی شرط ہندوتوا سوچ کے سامنے اپنی وفاداری کا ثبوت دینا ہے ۔ وہاں مسلمانوں کو نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ خواتین کو حجاب لینے کی اجازت نہیں دی جا رہی ۔ 1947میں بھارت کی فوج میں مسلمانوں کی تعداد تیس فیصد تھی۔ آج وہ کم ہو کر تین فیصد ہو گئی۔ باقی جگہ بھی یہی صورتحال ہے۔

اچھی ملازمتوں پر مسلمانوں کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں۔ صرف آر ایس ایس کی سوچ کے حامل لوگوں کو نوکری دی جاتی ہے، اعلیٰ عہدے دیے جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہاں ایک خاص سوچ کا قبضہ ہے۔ بھارتی عدلیہ میں بھی آر ایس ایس سوچ کے حامل ججز کو آگے لایا جا رہا ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ سپریم کورٹ سے آئین کی تشریح کی آڑ میں بھارتی آئین کو ہندوتوا کا آئین بنا دیا جائے۔ ایسے فیصلے آنے بھی شروع ہو گئے ہیں۔

 اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں فی تین ہزار لوگوں کے لیے ایک ڈاکٹر موجود ہے۔ لیکں مقبوضہ کشمیر کے عوام دنیا کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی میں محصور ہیں جہاں ہر 7 سے 8 فرد پر ایک فوجی اہلکار تعینات ہے۔ خواتین کا ریپ ہو رہا ہے۔ لوگ بے گناہ قید ہیں۔ نماز پڑھنے کی اجازت نہیں۔ جامعہ مسجد سری نگر میں جمعہ کی نماز کی اجازت نہیں دی جاتی، عید کی نماز کی اجازت نہیں دی جاتی۔ خواتین کی بے حرمتی کی جاتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے انھیںؓ مظالم کو چھپانے کے لیے بھارت کی خفیہ ایجنسیوں نے پر امن آزاد کشمیر میں کالعدم ایکشن کمیٹی کو کھڑا کیا ہے۔ اعلی سیکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ ہمارے پاس ان کے بھارتی گٹھ جوڑ کے ثبوت ہیں۔

 اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدارکا کہنا تھا کہ بھارت میں آزادی کی تحریکوں کو چھپانے کے لیے پاکستان کا نام لے کر مختلف فالس فلیگ کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے۔ جس کا مقصد دنیا کی توجہ بھارت میں ہونے والے مظالم سے توجہ بھی ہٹانا ہے ۔ بھارتی جنونیت اور اجارہ داری ایک مضبوط، خوشحال اور معتدل پاکستان کو اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔ پاکستان کے استحکام اور ترقی کو ہندوتوا کے پیروکار اپنی موت سمجھتے ہیں اسی وجہ سے بھارتی میڈیا اور سیاست دان دونوں پاکستان اور پاکستان کی افواج کے بارے میں بیانیہ بنانے میں الجھے رہتے ہیں ۔ ریاست پاکستان اور اس کے عوام بھارت سے نہ کبھی مرعوب تھے اور نہ ہی کبھی ہوں گے۔

Load Next Story