حجاز ریلوے سوا سو سال بعد بیدار ہو رہی ہے

سعودی عرب میں حرمین ہائی اسپیڈ ریل اور متحدہ عرب امارات میں اتحاد ریل نیٹ ورک پہلے ہی سے آپریشنل ہیں۔

اٹھائیس فروری کو ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ شبخون سے لگ بھگ پانچ ماہ قبل خلیج ریلوے اتھارٹی نے اعلان کیا کہ دسمبر دو ہزار تیس تک کویت تا اومان خلیج تعاون کونسل کی چھ رکن ریاستیں سترہ سو کیلومیٹر طویل ہائی اسپیڈ ریل نیٹ ورک کی لڑی میں پرو دی جائیں گی۔اس منصوبے کو جی سی سی ریلوے پروجیکٹ کا نام دیا گیا ہے اور لگ بھگ آدھا کام مکمل بھی ہو چکا ہے۔

سعودی عرب میں حرمین ہائی اسپیڈ ریل اور متحدہ عرب امارات میں اتحاد ریل نیٹ ورک پہلے ہی سے آپریشنل ہیں۔امارات اور اومان کے مابین ہفیت پروجیکٹ کے تحت ہائی اسپیڈ پٹڑی بچھانے کا چالیس فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔دو سو اڑتیس کیلومیٹر کا یہ منصوبہ ڈھائی ارب ڈالر کی لاگت سے اگلے برس تک پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔

سات سو پچاسی کیلومیٹر طویل دوہا تا ریاض ہائی اسپیڈ ریلوے منصوبہ بھی دو ہزار تیس تک مکمل ہو جائے گا۔اس کے بعد تین سو کیلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دونوں شہروں کا سفر براستہ ہفوف اور دمام ڈھائی گھنٹے تک مختصر ہو جائے گا۔توقع ہے کہ اس منصوبے سے سالانہ ایک کروڑ مسافر مستفید ہوں گے ۔

ریاض تا کویت ساڑھے چھ سو کیلومیٹر ریل منصوبہ دو ہزار اٹھائیس تک مکمل ہو گا۔سعودی عرب اور بحرین کے مابین کنگ فہد کاز وے کے ساتھ ساتھ دمام تک ستاون کیلومیٹر کا کنگ حماد ریل پروجیکٹ بحرین کو جی سی سی ریلوے سے جوڑے گا۔اس پروجیکٹ میں جی سی سی کے بین الاقوامی ایرپورٹس کو بھی منسلک کیا جا رہا ہے تاکہ سیاح بلا رکاوٹ کسی بھی ریاست میں آ جا سکیں۔اس مقصد کے لیے یورپی شنیگن ویزے کی طرز پر جی سی سی ویزے کا اجرا بھی ہو رہا ہے ( فی الحال یہ سہولت چند ممالک کے شہریوں کو دی گئی ہے )۔

کیا یہ سب منصوبے بروقت پایہ تکمیل تک پہنچ پائیں گے ؟ اس کا دارومدار خلیج میں پائیدار امن پر ہے۔البتہ سب سے اہم ریل منصوبہ وہ ہے جس پر ترکی ، شام ، اردن ، عراق اور سعودی عرب نے اتفاق کیا ہے اور یہ منصوبہ شام میں خانہ جنگی کے خاتمے کے سبب کامیاب ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔یعنی استنبول کو دمشق ، عمان ، مدینہ ، مکہ ، ریاض اور پھر اومان سے جوڑا جائے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ بحرہند کے اومانی ساحل سے جنوبی یورپ تک نقل و حمل کا ریل راستہ کھل جائے گا۔اس منصوبے کی ایک شاخ عمان سے اردن کی بندرگاہ عقبہ تک جائے گی تاکہ باب المندب کے راستے ایشیا سے ہونے والی تجارت بھی اس سے جڑ سکے۔

استنبول تا اومان ریل منصوبہ کم و بیش اسی روٹ پر بنے گا جس پر لگ بھگ سوا سو برس پہلے دمشق تا مدینہ تیرہ سو کیلومیٹر طویل حجاز ریلوے تعمیر ہوئی تھی۔یہ منصوبہ عثمانی سلطان عبدالحمید دوم کی ذاتی دلچسپی سے انیس سو تا انیس سو آٹھ کے درمیان مکمل ہوا۔اس کا ایک ذیلی ٹریک دمشق سے فلسطین کی بندرگاہ حیفہ تک بھی بچھایا گیا۔حجاز ریلوے میں مدینہ تا مکہ مزید چار سو کیلومیٹر کی توسیع پہلی عالمی جنگ کے سبب رک گئی اور جنگ کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کا ہی خاتمہ ہو گیا۔

حجاز ریلوے سے قبل دمشق سے مدینہ تک کا فاصلہ اونٹوں پر چالیس روز میں طے ہوتا تھا۔لگ بھگ بیس فیصد حاجی یا مسافر راستے میں موسم کی سختی یا مقامی قبائل کے حملوں اور لوٹ مار میں مارے جاتے۔مگر حجاز ریلوے سے یہ فاصلہ مختصر ہو کے پانچ روز میں سمٹ گیا۔سلطنتِ عثمانیہ کا یہ پہلا ریل منصوبہ تھا جو ترک انجینروں اور مقامی افرادی قوت کی مدد سے مکمل ہوا۔اس سے قبل استنبول تا دمشق ریلوے سیکشن جرمن تکنیکی امداد سے مکمل ہوا تھا۔حجاز ریلوے کے لیے لگ بھگ چھیانوے لوکوموٹیو انجن سوئٹزر لینڈ سے خریدے گئے۔

دمشق کے حجاز ریلوے ٹرمینل پر آج بھی سلطان عبدالحمید کے دور کے سوئس و جرمن ساختہ کوئلے سے چلنے والے چار بھاپ انجن رواں ہیں جو چوبی کوچوں پر مشتمل چھوٹی سی ٹرین میں سیاحوں کو پچیس کیلومیٹر طویل ٹریک پر سیر کرواتے ہیں۔دو ہزار گیارہ میں خانہ جنگی کے آغاز پر یہ سیاحتی سروس معطل ہو گئی ۔جانے اب بحال ہوئی یا نہیں۔ (خاکسار بھی اس ٹرین کے مزے لے چکا ہے )۔

 حجاز ریلوے کی تعمیر کا بنیادی مقصد استنبول تا یمن پھیلے عثمانی صوبہ جات پر سلطان کے انتظامی ، سیاسی اور عسکری کنٹرول کو مضبوط بنانا تھا۔ جن خطوں سے یہ ٹریک گذارا گیا وہاں مرکزی اقتدار کے خلاف عرب قوم پرستی کے رجحانات دن بہ دن بڑھ رہے تھے۔

مگر اس منصوبے کا عوامی مقصد بظاہر حجاج کی سفری دشواریاں کم کرنا بتایا گیا اور اس تاثر کو تقویت دینے کے لیے اعلان کیا گیا کہ سلطان کے خزانے سے منصوبے پر چار لاکھ لیرا کا صرفہ ہو گا ( یہ پیسہ بھی بینکوں سے قرض لیا گیا )۔اضافی رقم عوامی چندے سے جمع ہو گی تاکہ تمام مسلمان ’’ حج ریل منصوبے ‘‘ کے کارِ خیر میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔

اس بابت زیادہ چندہ دینے والوں کے لیے خصوصی سند اور تمغے کا اجرا کیا گیا۔ہندوستان میں بھی بہت سے مخیر مسلمانوں نے عطیہ دیا۔ جب پہلی عالمی جنگ کے دوران برطانیہ اور ترکی کی دشمنی کی تپش برٹش انڈیا تک محسوس ہونے لگی تو جن جن اصحاب نے حجاز ریلوے منصوبے میں بڑھ چڑھ کے چندہ دیا تھا خفیہ پولیس کے ایجنٹ ان کی نگرانی پر مامور کر دئیے گئے۔

پہلی عالمی جنگ کے دوران حجاز ریلوے کے کئی اسٹیشنوں پر برطانوی فضائیہ نے بمباری کی اور برطانوی خفیہ ایجنٹ کرنل لارنس ( لارنس آف عربیہ ) کے اکسانے پر عرب قوم پرستوں نے جگہ جگہ ریل کی پٹڑی اکھاڑی اور ٹرینوں پر حملے کیے۔

انگریزوں نے سلطنتِ عثمانیہ کے زوال میں مدد دینے کے عوض عربوں کو مکمل آزادی دینے کا وعدہ کیا۔تاہم جنگ کے بعد فرانس اور برطانیہ نے اس پورے خطے کی بندر بانٹ کر لی۔عرب منہ دیکھتے رہ گئے اور برطانیہ نے جاتے جاتے عربوں کو ’’ اسرائیل ‘‘ کا تحفہ بھی تھما دیا۔

آج سوا سو برس بعد انھی عربوں کی موجودہ نسل ترکی کے تعاون سے ایک جدید حجاز ریلوے کی تعمیر پر خوشی خوشی رضامند ہے۔بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

Load Next Story