علی خامنہ ای کا سفرِ آخر؛ سرخ پرچم تھامے سوگواروں کا ٹرمپ سے انتقام لینے کا اعلان
آیت اللہ خامنہ ای کی تجہیز وتکفین میں سرخ پرچم اور ٹرمپ سے انتقام کے نعرے
شہید علی خامنہ ای کی میت شیشے کے تابوت میں امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں رکھ دی گئی جہاں لاکھوں سوگواروں نے امریکا اور ٹرمپ سے بدلہ لینے کا اعلان کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تجہیز و تکفین کے روز سوگ، مذہبی عقیدت اور انتقام کے جذبات نمایاں رہے۔
امام خمینی گرینڈ مصلیٰ کے صحن میں جمع لاکھوں افراد نے سرخ پرچم تھامے ہوئے تھے جو ایران میں انتقام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
شرکا پرچم لہراتے ہوئے انتقام، انتقام، امریکا مردہ باد اور اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگاتے رہے جبکہ شرکا نے خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان بھی کیا۔
شیعہ روایت میں سرخ پرچم مظلوم کے خون کا بدلہ لینے اور انصاف کے مطالبے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ متعدد شرکا سینہ کوبی اور مرثیہ خوانی کرتے ہوئے امریکا اور ٹرمپ مخالف نعرے لگاتے رہے۔
میڈیا سے گفتگو میں شرکا نے کہا کہ وہ صرف تدفین میں شرکت نہیں بلکہ خون کا بدلہ لینے کے عزم کے اظہار کے لیے آئے ہیں۔
شرکا نے اپنی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے ذمہ دار کے خلاف انتقامی کارروائی کی جائے اور عالمی سطح پر دباؤ ڈالا جائے۔
اے ایف پی کے مطابق گرینڈ مصلیٰ کے وسیع صحن میں ہزاروں سوگوار سرخ جھنڈے اٹھائے شہید آیت اللہ خامنہ ای کے تابوت کے منتظر رہے اور جیسے ہی ایرانی پرچم میں لپٹا تابوت ایک بلند سیاہ اسٹیج پر رکھا گیا تو لوگ زار و قطار رونے لگے۔
اس موقع پر فضا آہ و بکا سے گونج اُٹھی۔ شرکا قرآنی آیات کی تلاوت کرنے لگے۔ درود و سلام پیش کیا گیا، کہیں کہیں نوحہ خوانی اور سینہ کوبی بھی کی گئی۔
اسٹیج کے اطراف ایرانی پرچم، سیاہ علم اور خامنہ ای کی زندگی کے مختلف ادوار کی تصاویر آویزاں تھیں جبکہ قرآن کی تلاوت اور مرثیوں کے بعد عوام کو آخری دیدار کا موقع دیا گیا۔
گرینڈ مصلیٰ کے اطراف تمام بڑی شاہراہیں بند رہیں، متعدد مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور جنازہ گاہ تک پہنچنے والے افراد کی سخت تلاشی لی گئی۔
صبح سویرے میٹرو اسٹیشنوں کے باہر بھی ہزاروں افراد کی قطاریں دیکھی گئیں جو آخری رسومات میں شرکت کے لیے پہنچے تھے۔