آم کے چھلکے کو کچرا نہ سمجھیں، صحت کےلیے حیرت انگیز فوائد سامنے آگئے

آم کے چھلکے میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس بڑھاپے کی رفتار سست کرنے میں بھی کردار ادا کر سکتے ہیں

گرمیوں میں آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے اور یہ ذائقے کے ساتھ ساتھ غذائیت سے بھی بھرپور ہوتا ہے۔ عام طور پر لوگ آم کھانے کے بعد اس کا چھلکا پھینک دیتے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق یہی چھلکا کئی ایسے غذائی فوائد رکھتا ہے جو صحت کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔

غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ آم کے چھلکے میں وٹامن اے، وٹامن سی، وٹامن کے، میگنیشیم، کولین اور پوٹاشیم سمیت متعدد اہم غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں اینٹی آکسیڈنٹس، کیروٹینائڈز اور پولی فینولز بھی پائے جاتے ہیں، جو جسم کو نقصان پہنچانے والے فری ریڈیکلز کے اثرات کم کرنے اور دل کی بیماریوں سمیت بعض اقسام کے کینسر کے خطرات میں کمی لانے میں مددگار سمجھے جاتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹس کے مطابق آم کے چھلکے کا استعمال بلڈ شوگر کو متوازن رکھنے اور وزن میں کمی کے عمل میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک تحقیق میں بھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ آم کے چھلکے میں موجود بعض قدرتی اجزا خون میں شوگر کی سطح کو قابو میں رکھنے اور جسمانی وزن کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق آم کے چھلکے سے غذائیت سے بھرپور چائے بھی تیار کی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے چھلکے کو پانی میں ابال کر اس میں ذائقے کے لیے شہد یا لیموں کا رس شامل کیا جا سکتا ہے۔ یہ مشروب وٹامنز اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہونے کے باعث صحت کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آم کے چھلکے میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس بڑھاپے کی رفتار سست کرنے میں بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ جسم کو مختلف بیماریوں سے بچانے میں معاون ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں عمر بڑھنے کے اثرات نسبتاً دیر سے ظاہر ہوتے ہیں۔

آم کے چھلکے کو استعمال کرنے کے کئی طریقے ہیں۔ اسے اچھی طرح دھو کر پھل کے ساتھ بھی کھایا جا سکتا ہے، جبکہ اگر براہِ راست استعمال پسند نہ ہو تو اس کا اچار بھی تیار کیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے چھلکوں میں نمک اور مصالحے شامل کرکے انہیں چند روز دھوپ میں رکھا جاتا ہے، جس کے بعد انہیں بطور اچار استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین البتہ یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ آم کے چھلکے استعمال کرنے سے پہلے انہیں اچھی طرح دھو لینا چاہیے تاکہ ان پر موجود مٹی، گرد یا ممکنہ زرعی کیمیکلز صاف ہو جائیں اور انہیں محفوظ انداز میں استعمال کیا جا سکے۔

Load Next Story