وزیراعلیٰ بلوچستان کی اوپن ایکس اسپیس میں حقائق پر مبنی گفتگو، گمراہ کن بیانیہ زمیں بوسں
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی اوپن ایکس سپیس میں حقائق پر مبنی گفتگوکے باعث بلوچستان کے حوالے سے گمراہ کن بیانیہ زمیں بوسں ہوگیا۔
اوپن ایکس اسپیس میں مختلف مکتبۂ فکر، بشمول سب نیشنلسٹ، این جی اوز کے نمائندے اورناقدین بھی شریک ہوئے، جبکہ ایک موقع پرشرکا کی تعداد 16 ہزار سے بھی تجاوز کر گئی تھی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کی اوپن ایکس سپیس میں حقائق اور شواہد پر مبنی گفتگو نے قوم پرستوں کے احساس محرومی اور لاپتہ افراد کےگمراہ کن بیانیے کو مؤثر انداز میں حقائق کےمنافی ثابت کیا جس کی شرکا نے بھرپور پذیرائی کی۔وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے حقائق بیان کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان میں یوتھ انگیجمنٹ پلان کے تحت متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے لاپتہ افراد اور عوامی حقوق کی آڑ میں عوام کو تشدد پر اکسانے کی مذموم کوشش کی،گوادر سمیت بلوچستان کے ہرضلع کے نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کیلئے کئی منصوبوں پر کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے پہلی بارپنشن ریفارمز، الیکٹرک وہیکلز پالیسی، غیر ضروری اخراجات میں کمی اور کئی محکموں میں جامع اصلاحات کیں،بلوچستان میں اعلی تعلیم کے فروغ کیلئے ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ اور اسکالرشپس کی مد میں خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
بلوچستان میں چار ارب روپے کے منصوبے کے تحت تمام سرکاری اسکولوں، کالجوں، جامعات اور صحت کی مراکز میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی،پاکستان کی انتہائی پیشہ ورانہ اور باصلاحیت مسلح افواج کی موجودگی میں چند پرتشدد عناصر ریاستی رٹ کو کمزور کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
ماہرین کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان کے حقائق اور شواہد پر مبنی مؤقف نے بلوچستان سے متعلق گمراہ کن پروپیگنڈے کو بے اثر کر دیا۔ہزاروں نوجوانوں کی ایکس سپیس میں شرکت اور ریاستی بیانیے کی تائید بھارتی پراکسیز کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان کا براہِ راست عوامی مکالمہ اور سخت سوالات کا حقائق اور خندہ پیشانی سے جواب شفاف طرزِ حکمرانی اور مؤثر عوامی رابطے کی بہترین مثال ہے۔