غیر ملکی خواتین اغوا،ریپ کیس:’حکومتی شخصیت کے رشتےدار کے ساتھ دیگر ملزمان جیسے سلوک کا حکم دیا گیا‘

سینئر کمانڈ اور حکومت کو آگاہ کیا کہ ملزم کے ایک اعلیٰ شخصیت کے ساتھ تعلقات ہیں، ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران

ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے کہا ہے کہ پولیس مبینہ طور پر ایک سینئر حکومتی وزیر سے تعلق رکھنے والے ملزم کے ساتھ سلوک بھی ویسا ہی سلوک کر رہی ہے جیسا دوسرے ملزمان کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔

غیر ملکی خواتین اغوا  کیس سے متعلق لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے کہا  کہ غیر ملکی خواتین کے ساتھ مبینہ زیادتی کا کیس کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کا نہیں بنتا، اس لیے اس کی تحقیقات لاہور پولیس کر رہی ہے۔

https://x.com/ExpressNewsPK/status/2073724715466973609

انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس کے اندر قائم ریپ سیل اس مقدمے کا جائزہ لے رہا ہے، اسی وجہ سے سی سی ڈی اس کیس میں شامل نہیں ہے، اگرچہ ماضی میں اس نوعیت کے مقدمات سی سی ڈی بھی دیکھتی رہی ہے۔

فیصل کامران کے مطابق 26 جون کو دونوں غیر ملکی خواتین اسلام آباد پہنچیں، جبکہ 29 جون کو لاہور آئیں۔ یکم جولائی کی رات تقریباً بارہ بجے سیف سٹی اتھارٹی کو اطلاع ملی کہ ایک شخص کارلوس نے بتایا ہے کہ اس کی بیٹی پاکستان میں اغوا ہو گئی ہے اور اغوا برائے تاوان کی کال موصول ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اطلاع ملتے ہی پولیس نے متعلقہ فون نمبرز، گاڑی کا رجسٹریشن نمبر، سفری ریکارڈ اور سیف سٹی کیمروں کی مدد سے تحقیقات کا آغاز کیا، جبکہ لاہور کے علاقوں شاہدرہ، ڈیفنس، سرگودھا اور دیگر مقامات پر چھاپے مارے گئے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کی بازیابی کو یقینی بنانا ہماری ترجیح تھی، ہم نے سرگودھا اور کئی دیگر مقامات پر چھاپے مارے، اسی وقت جب ہمیں ایک مشتبہ شخص کا فیملی ٹری ملا اور چھاپے مارے گئے ایک گھر پر مکینوں سے بات کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ ملزم کا خاندان کچھ عرصہ قبل اس گھر میں کرائے پر رہتا تھا اور غالباً ان کا تعلق نائب وزیر اعظم سے تھا، ملزم کی شناخت محمد رضا ڈار کے نام سے ہوئی۔

انہوں نے مزید کہا  ہمیں معلومات کی تصدیق کرنی پڑی، اور ہم نے اہل خانہ سے اس کی تصدیق کی؛ ہم نے ان سے (مشتبہ شخص کا) نمبر حاصل کیا اور اس کی لوکیشن کا پتہ لگانا شروع کیا، خاندان نے یقینی طور پر ملزم کو سرنڈر کرنے کا کہا ہوگا۔

فیصل کامران نے کہا کہ تفتیش شروع ہونے کے بعد انہوں نے سینئر کمانڈ اور حکومت کو ان حالات سے آگاہ کیا کہ ملزم کے ایک اعلیٰ شخصیت کے ساتھ تعلقات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں حکومت کی طرف سے سخت احکامات موصول ہوئے  کہ اس کے ساتھ کسی دوسرے مجرم سے مختلف سلوک نہ کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس واقعے کے پیچھے کسی فرد کے مشتبہ شخص کے بجائے ایک " گینگ" ہو سکتا ہے۔

ڈی آئی جی کے مطابق ملزم رضا دونوں خواتین کو گاڑی میں ائیرپورٹ چھوڑنے جا رہا تھا کہ بھٹہ چوک کے قریب خواتین کی اس سے ہاتھا پائی ہوئی۔ اسی دوران گاڑی ایک جگہ ٹکرا گئی، جس کے بعد دونوں خواتین نے گاڑی سے چھلانگ لگا کر نزدیکی فلٹر ہاؤس میں پناہ لی، جہاں سے پولیس نے انہیں بحفاظت بازیاب کرایا۔

فیصل کامران نے کہا کہ دونوں خواتین کا طبی معائنہ کرانے کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کے احکامات ضروری تھے، جس کے لیے رات گئے ایک ایس ایچ او کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی رہائش گاہ بھیجا گیا، جس پر انہوں نے معذرت کا اظہار بھی کیا۔

انہوں نے بتایا کہ غیر ملکی خواتین کی بازیابی کے بعد مزید تفتیش کی گئی اور اسپین و ہالینڈ کے سفارتخانوں سے رابطہ کیا گیا۔ اسپین کے سفارتخانے نے آگاہ کیا کہ متاثرہ خواتین میں سے ایک کا تعلق وینزویلا سے ہے۔ سفارتخانوں سے رابطوں کے بعد دونوں خواتین طبی معائنے کے لیے رضامند ہوئیں اور بعد ازاں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے بیان ریکارڈ کرانے پر بھی آمادہ ہو گئیں۔

ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ سفارتخانوں نے دونوں خواتین کو جلد واپس بھیجنے کی درخواست بھی کی، جبکہ پولیس واقعے کے تمام پہلوؤں پر تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔

 

ڈی آئی جی آپریشنز  نے کہا کہ اسپین کی ایمبیسی سے رابطہ ہوا پھر نیدرلینڈز ایمبیسی سے رابطہ کیا گیا، خواتین ایس پیز نے دونوں غیر ملکی خواتین کو میڈیکل کروانے کے لیے منایا، دونوں خواتین کا میڈیکل کروانے کے لئے جوڈیشل مجسٹریٹ کے آرڈر ضروری تھے۔

ڈیوٹی پر موجود نہ ہونے کی وجہ سے ایک ایس ایچ او جوڈیشل مجسٹریٹ کے گھر بھیجا گیا کیونکہ دونوں خواتین کی صبحِ فلائٹ تھی، رات گئے ایک ایس ایچ او کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے گھر بھیجا جسکے لئے میں معذرت خواہ ہوں۔

https://www.youtube.com/watch?v=FgWCT2Yv5h4

Load Next Story