لاہور کے پوش علاقوں میں فلیٹ اور مکان مالکان کرایہ مافیا کی شکل اختیار کرنے لگے
لاہور کے پوش علاقوں اور بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں فلیٹ اور مکان مالکان بھی ایک طرح کے کرایہ مافیا کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
مالکان اپنی مرضی سے کرائے مقرر کرنے، بھاری ایڈوانس وصول کرنے اور کرایہ داروں پر مختلف اضافی مالی بوجھ ڈالنے کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ دوسری جانب شہر میں تیزی سے بڑھتے کرایوں نے متوسط طبقے، ملازمت پیشہ افراد اور دوسرے شہروں سے آنے والے خاندانوں کے لیے مناسب رہائش کا حصول مزید مشکل بنا دیا ہے۔
جائیداد کی خرید و فروخت کے شعبے سے وابستہ ویب سائٹس کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 تک ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) لاہور میں گھروں کا اوسط ماہانہ کرایہ تقریباً 2 لاکھ 81 ہزار روپے جبکہ گلبرگ میں 6 لاکھ روپے سے زائد ریکارڈ کیا گیا۔ جوہر ٹاؤن میں اوسط کرایہ 2 لاکھ 24 ہزار روپے اور بحریہ ٹاؤن میں ایک لاکھ 65 ہزار روپے کے قریب رہا۔ بعض علاقوں میں ایک کنال گھروں کے کرائے 3 سے 4 لاکھ روپے ماہانہ تک پہنچ چکے ہیں جبکہ 5 مرلہ گھروں کے کرائے بھی ایک لاکھ روپے سے تجاوز کر گئے ہیں۔
کرایہ داروں کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف کرایوں میں اضافے تک محدود نہیں بلکہ متعدد مالکان مختلف طریقوں سے انہیں مالی اور انتظامی دباؤ کا شکار بھی بناتے ہیں۔ لاہور کے رہائشی اور کرایہ دار ظہور احمد نے بتایا کہ بیشتر فلیٹس میں بجلی کے لیے سب میٹر نصب ہوتے ہیں جبکہ پانی اور گیس کا بل مشترکہ بنیادوں پر وصول کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق بعض مالکان فی کس استعمال کے بجائے فکسڈ رقم وصول کرتے ہیں اور یہ فرق نہیں کرتے کہ فلیٹ میں ایک فرد رہتا ہے یا پوری فیملی۔
انہوں نے کہا کہ کئی عمارتوں میں پانی واش روم، نہانے اور کپڑے دھونے کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ پینے کا پانی الگ سے واٹر فلٹریشن پلانٹس یا نجی سپلائرز سے خریدا جاتا ہے، اس کے باوجود پانی کے اخراجات الگ سے وصول کیے جاتے ہیں۔
کرایہ دار رضوانہ عزیز نے بتایا کہ فلیٹ حاصل کرنے کے وقت دو سے چار ماہ کے کرائے کے برابر ایڈوانس رقم اور سکیورٹی ڈپازٹ لیا جاتا ہے، تاہم مکان یا فلیٹ خالی کرتے وقت مالکان مختلف بہانوں سے اس رقم میں کٹوتیاں کر لیتے ہیں۔ ان کے مطابق بعض اوقات رنگ و روغن، صفائی یا معمولی مرمت کے نام پر ہزاروں روپے کاٹ لیے جاتے ہیں اور کرایہ دار کو مکمل رقم واپس نہیں ملتی۔
رئیل اسٹیٹ مارکیٹنگ کے شعبے سے وابستہ تنویر خان کے مطابق مہنگائی، تعمیراتی لاگت میں اضافہ، پراپرٹی کی بڑھتی قیمتیں، بیرون ملک پاکستانیوں کی سرمایہ کاری اور محدود معیاری رہائش کرایوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ ان کے بقول لاہور میں رہائشی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ متوسط طبقے کے لیے مناسب کرائے کی رہائش کم ہوتی جا رہی ہے۔
گلبرگ میں نجی کمپنی میں ملازمت کرنے والی عائشہ عمران نے بتایا کہ دو سال قبل جو فلیٹ 45 ہزار روپے ماہانہ میں مل جاتا تھا، آج اسی کا کرایہ 80 ہزار روپے سے تجاوز کر چکا ہے، جس کے باعث انہیں نسبتاً سستے علاقے میں منتقل ہونا پڑا۔
ڈی ایچ اے میں رہائش پذیر محمد عثمان کے مطابق ان کے گھر کا کرایہ ایک سال میں 40 ہزار روپے بڑھا دیا گیا جبکہ سرکاری ملازم نعمان اشرف نے بتایا کہ رائیونڈ روڈ منتقل ہونے کے بعد ان کے رہائشی اخراجات تقریباً نصف رہ گئے ہیں۔
ریئل اسٹیٹ ایجنٹس کے مطابق ایل ڈی اے ایونیو، رائیونڈ روڈ، جوبلی ٹاؤن اور بحریہ آرچرڈ سمیت مضافاتی علاقوں میں کرایہ داروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے کیونکہ وہاں نسبتاً کم کرائے اور چھوٹے گھروں کی دستیابی متوسط طبقے کے لیے کشش رکھتی ہے۔
نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے نمائندے اور پراپرٹی کنسلٹنٹ رانا احسان الٰہی کے مطابق کرائے مارکیٹ ڈیمانڈ، سکیورٹی، انفراسٹرکچر اور دستیاب سہولیات کی بنیاد پر طے ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑے فلیٹس اور جدید اپارٹمنٹ منصوبوں میں بجلی، گیس اور پانی کے الگ الگ میٹرز بھی موجود ہوتے ہیں، تاہم پرانی عمارتوں میں مشترکہ نظام زیادہ عام ہے۔
قانونی ماہر اشتیاق چوہدری کے مطابق پنجاب رینٹڈ پریمیسز ایکٹ کے تحت کرایہ داری سے متعلق بعض قواعد موجود ہیں، تاہم پاکستان میں کرایوں کی شرح مقرر کرنے کا کوئی جامع قانونی نظام موجود نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ معاہدوں میں عام طور پر سالانہ 10 فیصد اضافے کی شق شامل کی جاتی ہے لیکن بعض مالکان مارکیٹ کی صورتحال کا جواز بنا کر اس سے زیادہ اضافہ بھی کر دیتے ہیں، جس پر تنازعات جنم لیتے ہیں۔
شہری منصوبہ بندی کے ماہر ڈاکٹر عبیداللہ کے مطابق دنیا کے کئی ممالک میں رینٹ کنٹرول اور افورڈیبل ہاؤسنگ پالیسیوں کے ذریعے کم آمدنی والے افراد کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ ان کے بقول لاہور میں بھی کرایہ داروں کے حقوق کے تحفظ، کرایوں کے شفاف نظام اور سستی رہائش کے منصوبوں پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر و بیت المال سہیل شوکت بٹ کے مطابق اپنی چھت، اپنا گھر پروگرام کے تحت ایک لاکھ سستے گھر اور اپارٹمنٹس فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ مستحق افراد کو 15 لاکھ روپے تک بلاسود قرض دینے کی اسکیم بھی جاری ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 70 ہزار خاندانوں کو آسان اقساط پر قرض فراہم کرنے اور 19 اضلاع میں ایک ہزار 892 مفت پلاٹس تقسیم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔