ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کیسز سنگین مسئلہ ہے، سعید غنی
وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سیسی کے زیر انتظام ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کیسز ایک سنگین مسئلہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق سعید غنی نے کہا کہ اب تک 78 بچوں کا ڈیٹا سامنے آیا ہے۔ یہ چھوٹا مسئلہ نہیں ہے کسی نہ کسی کی کوتاہی ہوگی اور اس کے مرتکب جو بھی افسران، ڈاکٹرز یا پیرا میڈیکل اسٹاف ہوگا اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی اور ہم متاثرہ بچوں کے اہلخانہ کو یقین دہانی کرواتے ہیں کہ محکمہ محنت اور سندھ حکومت ان بچوں کے علاج معالجہ سمیت کسی بھی متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
گزشتہ روز میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر محنت سندھ سعید غنی نے کہا کہ میں نے ستمبر 2025 میں جب محکمہ محنت کا دوبارہ قلمدان سنبھالا اس کے بعد 27 یا 28 اکتوبر 2025 کو یہ بات سامنے آئی تو اسی روز میں نے اجلاس کرکے تمام تفصیلات حاصل کی اور ایک تحقیقاتی کمیٹی بنانے کی ہدایات دی اور اس کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی ہدایات دی۔
انہوں نے بتایا کہ 29 اکتوبر 2025 کو کمیٹی بنی، جس کی سفارشات پر کچھ افسران کو معطل کیا۔ اس کے بعد کچھ افراد نے 7 نومبر کو محتسب اعلی سندھ میں درخواست دائر کی، جس پر صوبائی محتسب اعلیٰ نے اس پر کمیٹی بنانے کی محکمہ کو ہدایات دی اور ایک دوسری انکوائری کمیٹی بنائی گئی۔
سعید غنی نے کہا کہ میرے خیال میں یہ تمام کیسز 28 اور 29 اکتوبر 2025 سے قبل کے ہیں ۔ اب تک 78 بچوں کا ڈیٹا سامنے آیا ہے۔ کچھ بچوں کے والدین اس کے کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
سعید غنی نے کہا کہ اس معاملہ کی تہہ تک پہنچیں گے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔