رام مندر کے فنڈز میں کروڑوں کے فراڈ کا معاملہ بھارت کے لیے اتنا اہم کیوں ہے؟
بھارت میں رام مندر کے فنڈز میں مبینہ کروڑوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کے الزامات صرف ایک مالیاتی معاملہ نہیں، بلکہ مذہبی، سیاسی اور سماجی لحاظ سے بھی انتہائی حساس سمجھے جا رہے ہیں۔
۔رام مندر ہندوؤں کے مقدس ترین مذہبی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ کئی دہائیوں تک یہ مقام قانونی، مذہبی اور سیاسی تنازع کا مرکز رہا، جس کے بعد مندر کی تعمیر کو کروڑوں ہندوؤں نے ایک تاریخی کامیابی قرار دیا۔
رام مندر کی تعمیر کے لیے بھارت اور دنیا بھر سے عقیدت مندوں نے اربوں روپے کے عطیات دیے۔ اگر ان فنڈز میں خردبرد یا مالی بے ضابطگی ثابت ہوجاتی ہے تو اس سے لاکھوں عطیہ دہندگان کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔
مزید برآں رام مندر کا معاملہ نریندر مودی اور بی جے پی کی اہم سیاسی شناخت سے جڑا ہوا ہے۔ اسی لیے اس منصوبے سے متعلق کسی بھی تنازع کو حکومت اور اپوزیشن سیاسی زاویے سے دیکھتے ہیں۔ مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی خبریں ملک کے وقار اور سرکاری شفافیت کو داغدار کرتی ہیں۔
اگر تحقیقات میں مالی بدعنوانی کے شواہد ملتے ہیں تو اس سے مندر کے انتظامی ٹرسٹ، متعلقہ ٹھیکیداروں یا دیگر ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی ہو سکتی ہے جبکہ مستقبل میں مذہبی اداروں کے مالیاتی نظام پر بھی زیادہ نگرانی کی جائے گی۔
یہ بات اہم ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں اور سماجی کارکنوں کی جانب سے الزامات عائد کیے گئے ہیں اور مودی حکومت کو ایک ناکام اور جارحانہ حکومت قرار دیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ رام مندر کے فنڈز سے متعلق کوئی بھی تنازع بھارت میں صرف ایک مالیاتی خبر نہیں بلکہ مذہبی جذبات، سیاست، عوامی اعتماد اور حکومتی شفافیت سے جڑا ہوا قومی معاملہ بن جاتا ہے۔