بیمار نواسے کے علاج کے لیے 75 سالہ نانا بیوٹی انفلوئنسر بن گئے
چین میں 75 سالہ ایک شخص نے اپنے نواسے کے مہنگے علاج کے اخراجات پورے کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر بیوٹی انفلوئنسر بننے کا منفرد راستہ اختیار کر لیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق مشرقی چین کے صوبہ جیانگسو سے تعلق رکھنے والے ژو یونچانگ دن کے وقت اپنے 9 سالہ نواسے کاؤ جنگ یان کی دیکھ بھال کرتے ہیں جبکہ رات کو سوشل میڈیا پر لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے بیوٹی پراڈکٹس کی تشہیر کرتے ہیں۔ اس دوران ان کی اہلیہ بھی ان کا ساتھ دیتی ہیں اور وہ اکثر آدھی رات تک لائیو رہتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ژو یونچانگ کے نواسے کو چھ ماہ کی عمر میں اسپائنل مسکیولر ایٹروفی نامی نایاب جینیاتی بیماری تشخیص ہوئی تھی، جو ریڑھ کی ہڈی کے موٹر نیورونز کو متاثر کرتی ہے۔ اس بیماری کے باعث مریض کے پٹھے بتدریج کمزور ہوتے جاتے ہیں اور سانس لینے میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔ کاؤ جنگ یان ایس ایم اے کی ٹائپ ون میں مبتلا ہے، جو اس بیماری کی سب سے شدید قسم سمجھی جاتی ہے۔
نواسے کے علاج کے لیے سالانہ تقریباً 14 لاکھ یوآن (2 لاکھ 6 ہزار امریکی ڈالر) مالیت کے انجیکشن درکار ہوتے ہیں۔ ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ژو یونچانگ اپنا فلیٹ فروخت کر چکے ہیں، رشتہ داروں سے قرض بھی لے چکے ہیں اور اب سوشل میڈیا کے ذریعے آمدن حاصل کر رہے ہیں۔
لائیو اسٹریمنگ کے دوران ژو یونچانگ میک اپ کرتے اور مختلف لپ اسٹکس کے رنگ اپنے بازو پر آزما کر ناظرین کو دکھاتے ہیں۔
ان کی بیٹی ژو وی کا کہنا ہے کہ ان کے والد میک اپ کرنے میں ان سے بھی زیادہ مہارت رکھتے ہیں۔
ژو یونچانگ کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ ذمہ داری صرف نانا ہونے کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک باپ ہونے کے ناتے بھی اٹھائی۔
ان کے مطابق جب ڈاکٹروں نے ان کی اکلوتی بیٹی کو بتایا کہ اس کا بیٹا شاید صرف 18 ماہ تک زندہ رہ سکے گا تو وہ شدید ذہنی صدمے کا شکار ہوگئی تھی۔ اپنی بیٹی کی یہ حالت دیکھ کر انہوں نے نواسے کی مکمل دیکھ بھال اور علاج کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کا فیصلہ کیا۔