موناکو بم حملے کی ملزمہ کی یوکرین میں گولیاں لگی لاش برآمد؛ انٹیلی جنس اہلکار گرفتار

قتل کے الزام میں یوکرین کے مرکزی انٹیلی جنس ادارے کے حاضر سروس اہلکار اور اس کے ساتھی سابق اہلکار کو گرفتار کیا ہے

موناکو میں یوکرینی نژاد کاروباری شخصیت وادیم یرمالائیف پر ہونے والے بم حملے کی مرکزی ملزمہ 39 سالہ اناستاسیا بریزووسکا یوکرین میں مردہ حالت میں پائی گئی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرینی پولیس نے ملزمہ کے قتل کے الزام میں 2 افراد کو گرفتار کیا جن میں سے ایک یوکرین کے مرکزی انٹیلی جنس ادارے کا حاضر سروس اہلکار جبکہ دوسرا سابق قانون نافذ کرنے والا اہلکار ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حاضر سروس انٹیلی جنس اہلکار نے دورانِ تفتیش قتل کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے اپنے ساتھی کے ساتھ مل کر واردات انجام دی۔ اب اس کیس نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔

تفتیش کاروں کو یہ بھی معلوم ہوا کہ دونوں ملزمان نے مختلف اوقات میں ملزمہ کو بینک ٹرانسفرز اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے رقوم بھی منتقل کی تھیں جس کے بعد انھیں موناکو حملے میں ممکنہ کردار کے شبہے میں زیرِ تفتیش لایا گیا۔

پولیس کے بقول گرفتار انٹیلی جنس اہلکار نے اعتراف کیا کہ اس نے اپنی اعلیٰ قیادت کو نہ تو ملزمہ سے رابطوں کے بارے میں آگاہ کیا تھا اور نہ ہی مالی لین دین کی اطلاع دی تھی۔ اس نے یہ تمام واردات اپنی ذاتی حیثیت میں انجام دی۔

یوکرینی پولیس نے مزید انکشاف کیا کہ سابق قانون نافذ کرنے والے اہلکار کے گھر کی تلاشی کے دوران تہہ خانے میں ایک ایسا کمرہ ملا جو مبینہ طور پر ٹارچر سیل کے طور پر استعمال ہوا تھا۔ جس کے بارے میں مزید تفتیش جاری ہے۔

پولیس تحقیقات کے مطابق ملزمہ اناستاسیا بریزووسکا یکم جولائی کو یوکرین پہنچی تھیں اور اس دوران وہ اپنے اہل خانہ کے علاوہ گرفتار دونوں افراد سے بھی مسلسل رابطے میں تھیں۔

یوکرینی پولیس اور پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خاتون کی لاش کے سر پر گولیاں لگنے کے نشان تھے جبکہ جائے وقوعہ سے پستول کے خول بھی ملے ہیں۔

اس سے قبل اناستاسیا بریزووسکا کو بین الاقوامی پولیس ادارے انٹرپول نے موناکو بم حملے کی مرکزی مشتبہ ملزمہ قرار دیا تھا۔ وہ یوکرین میں پیدا ہوئی تھیں اور حالیہ برسوں میں جرمنی میں مقیم تھیں۔

پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر نے کہا ہے کہ تفتیش اب صرف قتل تک محدود نہیں بلکہ موناکو میں ہونے والے بم حملے کے اصل منصوبہ سازوں، مالی معاونین اور دیگر ممکنہ کرداروں کی بھی شناخت کی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے موناکو کے انتہائی محفوظ اور پرتعیش رہائشی علاقے میں ایک رہائشی عمارت کے داخلی حصے میں نصب بم دھماکے سے پھٹ گیا تھا۔

اس حملے کا ہدف یوکرینی نژاد معروف کاروباری شخصیت وادیم یرمالائیف تھے۔ دھماکے میں یرمالائیف سمیت ایک خاتون اور ایک بچے سمیت تین افراد زخمی ہوئے تھے۔

موناکو کے پراسیکیوٹر اسٹیفن تھیبو نے اس واقعے کو قتل کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ موناکو کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا بم حملہ ہے جس کا مقصد کسی شخصیت کو نشانہ بنانا تھا۔

حملے کا محرک تاحال واضح نہیں ہو سکا تاہم یوکرین میں مرکزی ملزمہ کی پراسرار ہلاکت اور اس کے بعد ہونے والی گرفتاریوں نے اس بین الاقوامی تحقیقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

یاد رہے کہ موناکو رقبے کے اعتبار سے دنیا کا دوسرا چھوٹا ملک اور ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہے جو برِاعظم یورپ میں فرانس کے ساحل کے قریب واقع ہے۔ اپنی دولت، پرتعیش لائف اسٹائل، اور انتہائی سخت سیکیورٹی کے لیے پوری دنیا میں مشہور ہے۔

گزشتہ ماہ کے آخر میں اسی ملک میں ایک یوکرینی کاروباری شخصیت پر قاتلانہ بم حملہ ہوا تھا۔ اس ملک میں جرائم کی شرح نہ ہونے کے باعث وہاں کی پولیس اور پراسیکیوٹر نے موناکو کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا ٹارگٹڈ بم حملہ قرار دیا تھا۔

 

Load Next Story