کے پی اسمبلی کے اراکین کو بلیو پاسپورٹ، اسلحہ لائسنس کی سہولت سے متعلق وضاحت
خیبر پختونخوا اسمبلی کے اراکین کے استحقاق اور سہولیات سے متعلق بعض میڈیا رپورٹس حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہیں، جن سے عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں۔
ترجمان نے اعلامیے میں کہا کہ اس حوالے سے واضح کیا جاتا ہے کہ زیرِ بحث آنے والی تقریباً 99 فیصد مراعات، اختیارات اور سہولیات خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی (اراکین کے استحقاقات) ایکٹ، 1988 میں پہلے سے موجود ہیں۔
حالیہ ترامیم کے ذریعے صرف ان موجودہ قانونی شقوں کو موجودہ آئینی، قانونی اور انتظامی تقاضوں کے مطابق مزید واضح، منظم اور مؤثر بنایا گیا ہے، نہ کہ کوئی نئی یا غیر معمولی مراعات متعارف کرائی گئی ہیں۔
بلیو پاسپورٹ کے حوالے سے یہ تاثر بھی درست نہیں کہ اراکینِ صوبائی اسمبلی کے لیے کوئی نئی سہولت فراہم کی گئی ہے، تمام اراکینِ صوبائی اسمبلی کو بلیو پاسپورٹ کی سہولت پہلے سے حاصل ہے۔
حالیہ سفارش اسپیکرز کانفرنس کے ایجنڈے اور ملک کی تمام صوبائی اسمبلیوں کی متفقہ سفارشات کی روشنی میں وفاقی حکومت کو ارسال کی گئی ہے تاکہ پاسپورٹ سے متعلق قوانین کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین کے مساوی بنایا جا سکے۔
وضاحت کی گئی ہے کہ اس نوعیت کی سفارشات گزشتہ چار ادوارِ اسمبلی میں بھی وفاقی حکومت کو بھجوائی جاتی رہی ہیں۔ واضح رہے کہ بلیو پاسپورٹ جاری کرنے کا اختیار مکمل طور پر وفاقی حکومت کے پاس ہے، جبکہ صوبائی اسمبلی یا صوبائی حکومت اس ضمن میں کوئی اختیار نہیں رکھتی۔
ترجمان نے واضح کیا کہ اسلحہ لائسنس سے متعلق بھی بعض اطلاعات حقائق کی درست عکاسی نہیں کرتیں۔ 1988 کے قانون کے تحت چار اسلحہ لائسنس کی سہولت پہلے سے موجود ہے، جبکہ مزید چار لائسنس صوبے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر عام شہریوں کی طرح مقررہ فیس، متعلقہ قواعد و ضوابط اور قانونی تقاضوں کے مطابق حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس ضمن میں کوئی نئی خصوصی رعایت متعارف نہیں کرائی گئی بلکہ صرف موجودہ قانونی پوزیشن کو واضح کیا گیا ہے۔
سرکاری ریسٹ ہاؤسز کی سہولت سے متعلق شق بھی پہلے سے موجود 1988 کے قانون میں موجود ہے۔اسی طرح سرکاری اداروں، ہسپتالوں، جیلوں اور ترقیاتی منصوبوں کے دوروں سے متعلق اختیارات بھی 1988 کے قانون کا حصہ ہیں۔ ان اختیارات کا مقصد عوامی مسائل کا جائزہ لینا، عوامی شکایات کا ازالہ، عوامی اثاثوں اور سرکاری اداروں کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنانا اور ایک منتخب عوامی نمائندے کے طور پر مؤثر چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
وضاحتی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ غیر مجاز مواد کے استعمال یا تشہیر سے متعلق شقیں بھی 1988 کے قانون کا حصہ ہیں۔ ان کا مقصد سرکاری اور پارلیمانی ریکارڈ کے تحفظ کو یقینی بنانا اور اس کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینا ہے۔ یہ کسی مخصوص طبقے، صحافی یا میڈیا ادارے کے خلاف کوئی نئی پابندی نہیں بلکہ دیگر پارلیمانی اداروں کی طرح عمومی قانونی تقاضے ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسمبلی کے نظم و ضبط، کارروائی اور ایوان کے وقار کو برقرار رکھنے سے متعلق اسپیکر کے اختیارات بھی 1988 کے قانون میں پہلے سے موجود ہیں، جنہیں قواعد و ضوابط اور آئینی تقاضوں کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی واضح کرتی ہے کہ تمام اقدامات آئین، قانون اور جمہوری روایات کے مطابق کیے گئے ہیں۔ میڈیا کے تمام اداروں سے گزارش ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات پر انحصار کرنے کے بجائے حقائق پر مبنی معلومات کو ترجیح دیں۔خیبر پختونخوا اسمبلی شفافیت، آئینی بالادستی اور عوامی مفاد کے اصولوں کے تحت اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرتی رہے گی۔