2 غیرملکی خواتین کے اغوا، ریپ کیس میں اہم پیشرفت، رضا ڈار سمیت 4 ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع

پولیس نے ملزمان کو چہروں پر ماسک لگا کر عدالت پیش کیا

کینٹ کہچری لاہور میں 2 غیر ملکی خواتین سے زیادتی اور اغوا کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ 

دوران سماعت رضا ڈار سمیت 4 ملزمان کو جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر عدالت میں پیش کردیا گیا۔

سماعت کے دوران استغاثہ نے ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے ڈی این اے اور فنگر پرنٹ ٹیسٹ کرائے گئے ہیں۔

پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کو جرم میں مبینہ طور پر استعمال ہونے والی گاڑی کے ساتھ ساتھ لیپ ٹاپ، نقدی اور اسلحے کو بھی برآمد کرنا ہے۔

2  ملزمان کے وکیل ایڈووکیٹ سلمان شاہد نے مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکلوں کا مبینہ جرائم سے کوئی تعلق نہیں، پولیس کے اپنے ورژن کے مطابق یہ معاملہ ریپ یا اغوا کا نہیں  بلکہ کرپٹو کرنسی کے تنازع سے متعلق تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

پولیس نے ملزمان کو چہروں پر ماسک لگا کر عدالت پیش کیا، عدالت نے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں 5 روز کی توسیع کردی۔

عدالت نے ملزمان کو 13 جولائی کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

لاہور میں یورپی ممالک ہالینڈ اور سپین سے تعلق رکھنے والی دو خواتین کے مبینہ اغوا کا واقعہ 29 جون کو پیش آیا تھا اور پولیس نے اس معاملے میں پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے ایک رشتہ دار سمیت 8 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

اتوار کو ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا  کہ لاہور سے دو غیر ملکی خواتین کے اغوا برائے تاوان کے کیس میں آٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں ایک بڑی سیاسی شخصیت کے رشتہ دار ملوث ہیں اور پولیس میرٹ پر اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

Load Next Story