ایران کے ساتھ ہماری جنگ بندی ختم ہوگئی، ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا اعلان
انقرہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران، نیٹو اور امریکا کی خارجہ پالیسی سے متعلق متعدد اہم بیانات دیتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ امریکی فوجی کارروائی ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کا جواب تھی، جبکہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت ختم ہوگئی ہے، ایرانیوں نے مذاکرات پر بہت وقت ضائع کیا اور وہ ایران کے ساتھ ڈیل نہیں کرنا چاہتے تھے۔
نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے گزشتہ رات ایران میں فوجی کارروائی کی، کیونکہ ایرانی حملوں کا جواب دینا ضروری تھا۔ ان کے مطابق امریکا اپنے مفادات اور اتحادیوں کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی فوجی قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے اور وہاں نئی قیادت سامنے آ چکی ہے۔ تاہم انہوں نے اس دعوے کے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے، جبکہ اس کی آزاد ذرائع سے بھی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں بہت زیادہ وقت ضائع ہوا اور اب واشنگٹن کا مؤقف ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بالکل واضح ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ ایران کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔
نیٹو کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ اتحاد کی موجودہ کارکردگی سے مکمل طور پر مطمئن نہیں ہیں۔ ان کے مطابق ایران کے معاملے میں نیٹو نے امریکا کی وہ مدد نہیں کی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیٹو کو سب سے زیادہ مالی معاونت امریکا فراہم کرتا ہے، اس لیے اتحادی ممالک کو اپنی ذمہ داریاں مزید مؤثر انداز میں ادا کرنی چاہئیں۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کو نیٹو کی اتنی ضرورت نہیں جتنی نیٹو کو امریکا کی ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل کے ساتھ ان کی تعمیری ملاقات ہوئی، جس میں مختلف عالمی اور علاقائی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسپین کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ اسپین کے ساتھ تعلقات میں دلچسپی نہیں رکھتے، تاہم انہوں نے اس بیان کی مزید وضاحت نہیں کی۔
ایران پر تنقید کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ گزشتہ 47 برسوں سے ایران دنیا کے مختلف ممالک کے لیے مسائل پیدا کرتا رہا ہے۔ انہوں نے ایرانی قیادت کے بارے میں بھی سخت زبان استعمال کی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے تازہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف اپنی سخت پالیسی برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ نیٹو کے اندر بھی ایران سے نمٹنے کی حکمت عملی پر اختلافات موجود ہیں۔