سانحہ گل پلازہ کی رپورٹ میں ایسے کونسے پردہ نشیں ہیں جن کے نام چھپائے جارہے ہیں، فاروق ستار
فوٹو فائل
ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے سانحہ گل پلازہ کی عدالتی تحقیقاتی رپورٹ منظرِ عام پر لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر 16 جولائی تک رپورٹ جاری نہ کی گئی تو وہ سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ دو ماہ سے سندھ انفارمیشن کمیشن میں پیش ہو رہے ہیں تاکہ سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشنل کمیشن رپورٹ کو پبلک کروایا جا سکے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ رپورٹ میں آخر ایسے کون سے نام ہیں جنہیں چھپایا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیکریٹری داخلہ سندھ کے بجائے غیر سنجیدہ افراد سندھ انفارمیشن کمیشن میں پیش ہوئے، جبکہ محکمہ قانون سندھ بھی اپنی بے بسی کا اظہار کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ داخلہ سندھ اپنی انکوائری رپورٹ سندھ انفارمیشن کمیشن کو دینے کا پابند ہے۔
فاروق ستار نے مزید کہا کہ 2008 کی ایف آئی آر میں یونین کے صدر تنویر پاشتا پر تمام ذمہ داری ڈال دی گئی، جبکہ تین بار چالان جمع ہونے کے باوجود عدالتی تحقیقاتی رپورٹ تاحال پیش نہیں کی گئی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ حکومت نے عدالتی انکوائری کمیشن بنا کر خود اپنے لیے مشکلات پیدا کیں اور اب رپورٹ جاری کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بظاہر رپورٹ میں ایسے حقائق شامل ہیں جن کی وجہ سے پوری سندھ حکومت خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
فاروق ستار نے کہا کہ سندھ انفارمیشن کمیشن قانون کے تحت 45 دن میں کیس کا فیصلہ کرنے کا پابند ہے، جبکہ سندھ حکومت انسانی حقوق پالیسی 2023 کے مطابق بھی رپورٹ جاری کرنے کی ذمہ دار ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سندھ حکومت نے تفتیشی افسر کو کیس مزید آگے بڑھانے سے بھی روک دیا ہے، اگر 16 جولائی تک رپورٹ پبلک نہ کی گئی تو وہ سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔