اسرائیل مخالف پوسٹ پر رکن یورپی پارلیمنٹ ریما حسن پر دہشت گردی کا مقدمہ

یورپی پارلیمنٹ کی فرانسیسی رکن ریما حسن آج پیرس کی عدالت میں پیش ہوئیں اور اپنی سوشل میڈیا پوسٹ کا دفاع کیا

ریما حسن یورپی پارلیمان کی فرانسیسی رکن پر فلسطین کی حمایت پر مقدمے کا سامنا

فرانس سے تعلق رکھنے والی یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن کے خلاف اسرائیل مخالف سوشل میڈیا پوسٹ پر دہشت گردی کی حمایت کے الزام میں عدالتی کارروائی شروع ہوگئی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی پارلیمنٹ کی فرانسیسی رکن ریما حسن آج پیرس کی عدالت میں پیش ہوئیں اور اپنی سوشل میڈیا پوسٹ کا دفاع کیا۔

رکن یورپی پارلیمان ریما حسن نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں مقدمے کو سیاسی انتقام، فلسطین کی حمایت کرنے والی آوازوں کو خاموش کرانے اور آزادیٔ اظہار پر حملہ کی کوشش قرار دیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگر سیاسی اختلاف رکھنے والوں کو سنسر کرنے اور ان کے خلاف فوجداری مقدمات قائم کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا تو اس کے نتائج صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ جمہوری اقدار کو بھی شدید نقصان پہنچے گا۔

ریما حسن نے مزید کہا کہ معاملہ صرف فلسطین کی حمایت یا مخالفت کا نہیں بلکہ فرانس میں جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور اظہارِ رائے کی آزادی کے تحفظ کا ہے۔

ان کے بقول ہر شہری کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ سیاسی معاملات پر اپنی رائے کا آزادانہ اظہار کرسکے۔

ریما حسن کو رواں سال اپریل میں ایک اسرائیل مخالف سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔

فرانسیسی استغاثہ نے ان پر دہشت گردی کو فروغ دینے یا اس کی حمایت کرنے سے متعلق قوانین کے تحت مقدمہ قائم کیا جس کی سماعت اب جاری ہے۔

فرانسیسی قانون کے مطابق اگر عدالت انھیں قصوروار قرار دیتی ہیں تو انھیں زیادہ سے زیادہ سات سال قید اور تقریباً ایک لاکھ پچیس ہزار ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

Load Next Story