خسارے کا سمندر اور برآمدات کی ڈوبتی ہوئی کشتی
رات کے آخری پہر جب شہرکی رونقیں مدھم ہونے لگتی ہیں اور بندرگاہ پر کھڑے جہاز اپنی خاموشی میں سمندروں کے راز سمیٹ لیتے ہیں تو کراچی کی بندرگاہ کے کسی سنسان گوشے میں کھڑا مزدور شاید یہ نہیں جانتا ہوگا کہ اس کے سامنے لنگرانداز یہ جہاز صرف سامان نہیں لا رہے یہ ایک پوری معیشت کے دکھ قرض اور بے بسی بھی اپنے ساتھ لے کر آ رہے ہیں۔
ان جہازوں کے کنٹینروں میں وہ سامان بھی ہے جو ملک میں تیار ہو سکتے تھے لیکن 8 دہائیاں گزر گئیں وہ خواب ابھی تک دبا ہوا ہے، یہ ایک عجیب داستان ہے ایک ایسا ملک جس کی زمین سونا اگاتی ہے، اسی لیے گندم کو سنہری ڈلی کہا جاتا ہے جس کے دریا تہذیبوں کی کہانیاں سناتے ہیں، جس کے پہاڑ معدنی خزانوں سے بھرے ہیں، جس کے کروڑوں نوجوانوں کی آنکھوں میں امکانات کے ہزاروں ستارے چمکتے ہیں، وہی ملک ہر سال اربوں ڈالر کا تجارتی خسارہ اپنے کاندھوں پر اٹھائے پھرتا ہے۔
2025-26 کے پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے اعداد و شمار کسی افسانے کا المیہ یا باب معلوم ہوتے ہیں۔ محض 30 ارب 12 کروڑ60 لاکھ ڈالر کی برآمدات گزشتہ مالی سال 32 ارب ڈالر سے زائد کی برآمدات تھیں اور 69 ارب 54 کروڑ70 لاکھ ڈالرزکی درآمدات یوں 39 ارب 47 کروڑ 10 لاکھ ڈالرز کا تجارتی خسارہ۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں یہ ایک خاموش چیخ ہے، ان صنعت کاروں کی چیخ ہے جن کی فیکٹریوں میں بجلی کے نرخوں نے مشینوں کی رفتار سست کر دی ہے۔ پاکستان کی معاشی تاریخ میں گھٹتی ہوئی برآمدات بڑھتی ہوئی درآمدات اور سب سے بڑا المیہ ناقابل برداشت تجارتی خسارے کا ہے۔
یہ ایک ایسا کردار ہے جو کبھی قرض کی شکل میں کبھی مہنگائی کی صورت میں اور کبھی گرتی ہوئی کرنسی کے روپ میں سامنے آتی ہے تو بالآخر آئی ایم ایف کے سخت ترین شرائط کے شکنجے پوری معیشت کو بھی دبوچ لیتے ہیں۔ کم برآمدات بڑھتی ہوئی درآمدات اور تجارتی خسارے کا ناقابل برداشت بوجھ کا سفر نئے مالی سال 2026-27 میں اسی طرح جاری رہا تو ایک بار پھر قوم کو آئی ایم ایف کی جراحی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دنیا کی کامیاب قوموں نے ایک دن فیصلہ کیا تھا کہ وہ خریدار نہیں بلکہ فروخت کنندہ بنیں گی۔ جاپان نے اپنے کھنڈرات سے صنعتوں کے شہر آباد کیے، جنوبی کوریا نے اپنی معیشت سے الیکٹرانکس کی سلطنت قائم کر دی، چین نے اپنی مصنوعات کو دنیا بھر میں پھیلا دیا۔
پاکستان بے شمار درآمدی اشیا مصنوعات تیار کر سکتا ہے اور اس سے قبل ملک میں تیار کر سکتا تھا، لیکن ہم اب بھی ان جہازوں کے منتظر ہیں جو ہماری ضرورتوں کی چیزیں لے کر آتے ہیں۔ ہر صبح سورج کی پہلی کرن پاکستان کے کھیتوں اور کھلیانوں پر جیسے ہی پڑتی ہے، زمین پکار اٹھتی ہے جدید علم و ہنر و ٹیکنالوجی کے ساتھ اور بہترین منصوبہ بندی کے تحت اگر مجھے کام میں لایا جائے تو دیگر ترقی یافتہ ملکوں کی طرح فی ایکڑ پیداوار دینے کی صلاحیت ہے۔
صنعتی علاقوں کی فیکٹریاں پکار اٹھتی ہیں کہ ’’ مجھے سستی توانائی دو، مستقل صنعتی و تجارتی پالیسیاں دو، جدید ترین منصوبہ بندی سے لیس کیا جائے تاکہ برآمدات میں دو گنا سے تین گنا اضافہ ممکن ہو سکے۔‘‘ دنیا بدل چکی ہے، کارخانے مصنوعی ذہانت کے ساتھ جڑ چکے ہیں، تجارت سرحدوں سے نکل کر کمپیوٹر اسکرینوں تک پہنچ چکی ہے۔ روز بہ روز کا بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ دراصل سمندر میں پڑنے والا ایک ایسا بھنور ہے جو آہستہ آہستہ پوری معاشی کشتی کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے، لیکن ہر اندھیری رات کی طرح اس داستان کا ایک روشن باب بھی ہے۔ پاکستان کے پاس نوجوان آبادی ہے، زرخیز زمینیں ہیں، اس وقت تو پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور دفاعی صلاحیت اور سیاسی سفارت کاری کے چرچے ہیں جس سے معاشی فوائد بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کے پاس بہترین بندرگاہیں ہیں، معدنی وسائل ہیں، زرخیز کھیت ہیں، لیکن پھر بھی ہم دنیا سے پیچھے کیسے ہیں؟
ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم درآمدی معیشت سے برآمدی معیشت کی طرف بڑھیں، ہم اپنے نوجوانوں کو نوکریوں کی تلاش میں لگا دیتے ہیں، ان کی تعلیم و تربیت ایسی کی گئی ہے کہ پڑھ لکھ کر نوکریوں کی تلاش میں کئی سال ضایع کر بیٹھتے ہیں اور بالآخر ایک معمولی نوکری پر ساری زندگی اکتفا کر بیٹھتے ہیں۔ اب جدید آئی ٹی کا دور آ گیا ہے، اب ان کی تربیت ایسی کر دیں کہ وہ روزگار پیدا کرنے والے بن جائیں۔ حکومت کہتی ہے کہ آئی ٹی ٹریننگ فری دی جائے گی لیکن صرف چند سو سے تو کام نہیں چلے گا۔
اب بات لاکھوں تک چلی گئی ہے، کروڑوں افراد جوکہ روزگار کی تلاش میں ہیں ان سب کو باقاعدہ قابل قدر دنیا بھر کے لیے قابل قبول آئی ٹی ٹریننگ یا دیگر ہنر کی تربیت دیں تاکہ چاہے وہ ملک میں اپنا کام کریں یا بیرون ملک جانا چاہیں تو دیار غیر والے فوراً ان کی خدمات حاصل کر لیں۔ ہمارا جدید ٹیکنالوجی اور آئی ٹی کی تعلیم کا شعبہ ابھی بہت زیادہ جدت اور اصلاحات کا طلب گار ہے۔ اب یہ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم خسارے کے سمندر میں برآمدات کی ڈوبتی ہوئی کشتی بنے رہیں گے یا برآمدات کے بادبان کھول کر خوشحالی کے نئے ساحلوں کی طرف سفر کریں گے۔