بینظیر انکم سپورٹ، ڈبلیو ایچ او، یونیسیف کے مابین شراکت داری میں تین سال کی توسیع کا ایم او یو سائن

پاکستان بھر میں مزید 33 لاکھ حاملہ و دودھ پلانے والی خواتین اور دو سال سے کم عمر بچوں کو غذائی تحفظ فراہم کیا جائے گا

اسلام آباد:

بینظیرانکم سپورٹ پروگرام، ڈبلیو ایف پی، ڈبلیو ایچ او اور یونیسیف کے مابین شراکت داری میں تین سال کی توسیع کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کردیئے گئے۔

معاہدے کے تحت پاکستان بھر میں مزید 33 لاکھ حاملہ و دودھ پلانے والی خواتین اور دو سال سے کم عمر بچوں کو غذائی قلت سے تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ سماجی تحفظ کو غذائیت، صحت اور شراکت داری کے ساتھ منسلک کرنے سے ماوٴں اور بچوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے، بینظیر نشوونما پروگرام شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کا تسلسل ہے، ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے اس پروگرام کی رسائی اور اثرات کو مزید وسعت دیتے رہیں گے۔

سینیٹر روبینہ خالد نے مزید کہا کہ بینظیر نشوونما پروگرام کے تحت چھ ماہ کی عمر تک کے بچوں میں اسٹنٹنگ کی شرح میں 22 فیصد کمی ہوئی، بینظیر نشوونما پروگرام کے ملک بھر میں 578 سہولت مراکز اور 224 نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹرز قائم ہیں، نشوونما پروگرام سیاب تک 47 لاکھ افراد مستفید ہو چکے ہیں اوراس توسیع کے بعد مستفید ہونے والوں کی مجموعی تعداد 80 لاکھ تک پہنچنے کی توقع ہے۔

Load Next Story