حادثے کے شکار طیارے کی تلاش جاری، لاپتا عملے کے اہل خانہ اچھی خبر کے منتظر
فوٹو: فائل
بلوچستان کے ساحلی مقام اورماڑہ کے قریب گر کر تباہ ہونے والے نجی کمپنی کے کارگو طیارے کی تلاش کا کام تیسرے روز بھی جاری رہا مگر جہاز کا عملہ اور بلیک باکس نہیں ملا، پائلٹ سمیت عملے کے پانچ افراد تاحال لاپتا ہیں جبکہ ایئرکرافٹ انجینئر عارف صدیقی کے اہل خانہ ابھی تک امید کادامن تھامے اچھی خبرکے منتظرہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سمندر میں گر کر حادثے کا شکار ہونے والےکارگو طیارے کے پانچ رکنی کیبن کریو اور کاک پٹ وائس ریکارڈر اور بلیک باکس کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے۔
پاک بحریہ اور پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کی جانب سےحادثے کے تیسرے روز بھی سالویج سرچ کےساتھ ہی ساتھ ریسکیو آپریشن جاری رہا اور جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کوآرڈینشن سینٹرکی جانب سےماہی گیروں سے کسی بھی شواہد کے متعلق رابطے جاری ہیں۔
کارگو طیارے حادثے میں لاپتا کراچی میں مقیم ایئرکرافٹ انجینئر عارف صدیقی کے اہل خانہ امید کا دامن تھامے بیٹھے ہیں اور ان کے بڑے صاحب زادے عبدالرافع نے کہا کہ ہر گزرتا لمحہ انتظار کو مزید کٹھن بنا رہا ہے۔
ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے لاپتا طیارے کے انجینئرعارف صدیقی کے بیٹے نے بتایا کہ ان کے والد ریٹائرڈ ہوگئے تھے لیکن انہوں 67 برس کی عمر میں بھی کام نہیں چھوڑا، والد نے تقریباً 40 برس ایئرکرافٹ انجینئرنگ شعبے میں خدمات انجام دیں، ریٹائرمنٹ کے بعد بھی انہوں نے کام سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی بلکہ مختلف کنٹریکٹس پر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔
عبدالرافع نے بتایا کہ ان کے والد ناردرن ٹیک سے وابستہ تھے اورمختلف ایوی ایشن کمپنیوں کے ساتھ بطور ایئرکرافٹ انجینئر خدمات انجام دیتے رہے، حالیہ پرواز بھی انہی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا حصہ تھی۔
عبدالرافع کے مطابق ان کے والد کو انجینئرنگ سے بے حد لگاؤ تھا، گھر میں بھی اکثر تکنیکی معاملات پر گفتگو کرتے اور اپنی دلچسپی کے باعث بچوں میں بھی انجینئرنگ کا شوق پیدا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حادثے کی اطلاع رات گئے ملی تو پورا خاندان سکتے میں آ گیا، والد سے رابطے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، مگر کوئی جواب نہ ملا، اگلے روز سے اہل خانہ مسلسل خبروں، سرچ آپریشن کی معلومات اور متعلقہ اداروں سے رابطے میں ہیں لیکن اب تک کوئی حتمی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
انہوں نے کہا کہ بعض غیرمصدقہ اطلاعات ضرور موصول ہوئیں، مگر کسی سرکاری ادارے نے ان کی تصدیق نہیں کی۔
عبدالرافع نے کہا کہ خاندان اب بھی امید کا دامن تھامے ہوئے ہے اور صرف یہ چاہتا ہے کہ والد کے بارے میں کوئی واضح خبر مل جائے۔
ذرائع کے مطابق گہرے سمندر سے ملنے والا بیشتر ملبہ بدقسمت طیارے کے پچھلے حصےکا تھا جبکہ جاری تلاش میں سونار، ریموٹ آپریٹیڈ وہیکلز ٹیکنالوجی اور ڈائیورز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔