آج شب کوئی فوجی کارروائی نہیں کی؛ امریکا کا ایران میں تازہ دھماکوں پر ردعمل

سیستان و بلوچستان کے شہر کنارک میں تین جبکہ بوشہر، چغادک اور بندرعباس میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں

امریکی کمانڈر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی

ایران کے تین اہم شہروں میں اب سے کچھ گھنٹوں قبل سنائے دینے والے زور دار دھماکوں پر امریکا کی جانب سے ردعمل سامنے آگیا۔

امریکی نشریاتی ادارے الجزیرہ سے گفتگو میں امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی کہ حالیہ چند گھنٹوں میں امریکی افواج نے ایران میں کسی بھی مقام کو نشانہ نہیں بنایا۔

امریکی عہدیدار نے مزید کہا کہ امریکا ایران میں سنائی دینے والے ان دھماکوں میں ملوث نہیں ہے اور امریکی فوج نے ایران کے خلاف کوئی نئی کارروائی انجام نہیں دی ہے۔

امریکی حکام نے اس بات پر بھی تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ ایران میں ہونے والے ان دھماکوں کی ممکنہ وجہ پھر کیا ہوسکتی ہے۔

آج شب آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کے موقع پر ایران کے صوبے سیستان و بلوچستان کے شہر کنارک میں تین جبکہ بوشہر، چغادک اور بندرعباس کے اطراف بھی متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

دوسری جانب بوشہر کے گورنر نے بتایا کہ دھماکوں کی آواز نامعلوم سمت سے آنے والے پروجیکٹائل کو ایرانی فضائی دفاعی نظام کے فضا میں تباہ کرنے سے پیدا ہوئی تھی جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ادھر سیستان و بلوچستان کے گورنر محمد یونس حقانی نے بتایا کہ بحری فوجی علاقے میں دو زور دار دھماکے سنے گئے اور جنگی طیاروں نے دو الگ مراحل میں حملہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ واقعے کے فوری بعد امدادی، سکیورٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں جبکہ حملے کی نوعیت اور نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

 

Load Next Story