اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تازہ ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں خلیجی خطے کی تازہ صورتحال، امریکا کی حالیہ کارروائیوں اور اسرائیل کی سیکیورٹی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹیلی فونک گفتگو میں صدر ٹرمپ نے خلیج میں امریکا کی حالیہ عسکری اور سفارتی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ نیتن یاہو نے گفتگو کے دوران ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے اسرائیل کے خلاف حالیہ بیانات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
اسرائیلی وزیراعظم نے اس موقع پر اسرائیل کی سرحدوں کے ساتھ قائم سیکیورٹی زونز برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر دفاعی اقدامات میں کوئی نرمی نہیں برتی جا سکتی۔
جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ترک صدر کے ساتھ ہونے والی ملاقات اور جنگی طیاروں سے متعلق ہونے والی ڈیل پر تفصیل سے آگاہ کیا اور تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کی۔
دونوں رہنماؤں نے ایران جنگ بندی میں ہونے والی ڈرامائی تبدیلی اور تازہ حملوں پر بھی تبادلہ خیال کیا اور مشرق وسطیٰ میں قیام امن سمیت مستقبل کے بارے میں متعدد فیصلے بھی کیے گئے۔
یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو مشہد میں سپردخاک کیا گیا جب کہ اسی دوران بوشہر، بندر عباس اور دیگر علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
بوشہر کے گورنر نے بتایا کہ دھماکوں کی آواز نامعلوم سمت سے آنے والے پروجیکٹائل کو ایرانی فضائی دفاعی نظام کے فضا میں تباہ کرنے سے پیدا ہوئی تھی جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
سیستان و بلوچستان کے گورنر محمد یونس حقانی نے بتایا کہ بحری فوجی علاقے میں دو زور دار دھماکے سنے گئے اور جنگی طیاروں نے دو الگ مراحل میں حملہ کیا۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ واقعے کے فوری بعد امدادی، سکیورٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں جبکہ حملے کی نوعیت اور نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب الجزیرہ سے گفتگو میں ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی کہ حالیہ چند گھنٹوں میں امریکی افواج نے ایران میں کسی بھی مقام کو نشانہ نہیں بنایا۔