کارگو طیارہ حادثہ، عملے کے 5 ارکان، بلیک باکس کو تلاش نہ کیا جا سکا
منگل کی شب اورماڑہ کے قریب گہرے سمندرمیں گرکرتباہ ہونے والے کارگوطیارے کی تلاش و بچائو آپریشن کا دائرہ مزید وسیع کردیاگیا،حادثے کا مقام لگ بھگ 3ہزارمیٹر(10ہزارفٹ)گہرا،ریکوری انتہائی پیچیدہ اور صبر آزما ثابت ہورہی ہے۔
خراب موسم،سمندری طغیانی،بلند لہروں،تندوتیزہواوں کے دوران جمعرات کوتیسرے روزپاک بحریہ اورپاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی سمیت دیگراداروں کی جانب سے بیک وقت سالویج سرچ اور ریسکیوآپریشن جاری رہا،بدقسمت طیارے کے کاک پٹ عملے اوربلیک باکس کوتلاش نہیں کیاجاسکا۔
سمندرمیں بلیک باکس تک رسائی کے بعدطیارہ ساز کمپنی کے زیرنگرانی ڈی کوڈ کرنے بیرون ملک بجھوایاجائیگا،ماہرین کا خیال ہے کہ زیادہ گمان یہ ہے کہ گرنیوالے طیارے کے فیوزلاج(پیٹا)اورکیبن سمیت دیگرحصہ سمندرمیں کہیں موجود ہیں،مگرجس تیزی سے گرنیوالے ہوائی جہازکابلندی کم تناسب کم ہوا،اورجس رفتارسے وہ سطح آب سے ٹکرایاہوگا،اس میں جہازکے ڈھانچے کے سلامت ہونے کے امکانات کافی محدود ہیں۔
دریں اثنا ایئرکرافٹ انجینئر عارف صدیقی کے اہل خانہ ابھی تک امید کادامن تھامے اچھی خبرکے منتظرہیں۔ سمندرمیں گرکرحادثے کا شکارہونے والے کارگوطیارے کے پانچ رکنی کیبن کریواورکاک پٹ وائس ریکارڈراوربلیک باکس کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے، طیارے حادثے میں لاپتہ کراچی میں مقیم ایئرکرافٹ انجینئر عارف صدیقی کے اہل خانہ امید کا دامن تھامے بیٹھے ہیں۔
عارف صدیقی کے بڑے صاحب زادے عبدالرافع نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا ہر گزرتا لمحہ انتظار کو مزید کٹھن بنا رہا ہے۔عبدالرافع نے بتایا کہ ان کے والد ناردرن ٹیک سے وابستہ تھے اور مختلف ایوی ایشن کمپنیوں کے ساتھ بطور ایئرکرافٹ انجینئر خدمات انجام دیتے رہے۔ حالیہ پرواز بھی انہی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا حصہ تھی۔