میرپور خاص: جعلی عامل اور اس کے ساتھی کی 2 کمسن لڑکیوں سے زیادتی، ایک لڑکی جاں بحق

جعلی عامل سے منسوب مبینہ جنسی زیادتی کے افسوسناک واقعے کا وزیر داخلہ سندھ نے نوٹس لے لیا

میرپور خاص میں 2 کم سن لڑکیوں سے مبینہ زیادتی اور ایک کی ہلاکت کا مقدمہ جعلی عامل اور اس کے ساتھی کے خلاف درج کر لیا گیا۔

جاں بحق لڑکی کے والد کی مدعیت میں درج مقدمے میں قتل، اغوا اور زیادتی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق جعلی عامل اور اس کے ساتھی نے دونوں لڑکیوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا، جس سے ایک لڑکی جاں بحق اور دوسری لڑکی تشویشناک حالت میں اسپتال میں زیرعلاج ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم جعلی عامل گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ فرار ساتھی کی تلاش جاری ہے۔

پولیس نے بتایا کہ 14 سالہ بچی پریمی اپنی لاپتہ والدہ کی تلاش میں مدد کے لیے اپنی 13 کزن دھنی اور چچا گوردن کولہی کے ہمراہ جعلی عامل راموں کولہی کے پاس گئی تھی، متوفیہ پریمی کی والدہ اپنے دو بچوں سمیت دوماہ قبل سے لاپتہ ہے، جعلی عامل نے جھانسہ دیا تھا کہ میں عملیات کر کے پتہ چلاونگا کہ وہ کہاں ہیں اورکس طرح واپس آئے گی۔

پولیس کے مطابق  جعلی عامل راموں کولہی اوراس کے ساتھی نے تینوں کو نشہ آور مشروب پلایا جس سے وہ بے ہوش ہوگئے،      جعلی عامل راموں اور اس کے ساتھی کانجو نے دونوں بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا، زیادتی کے نتیجے میں چودہ سالہ بچی پریمی ہلاک اور اس کی 13 سالہ کزن دھنی کی حالت غیر ہوگئی۔

واقعہ کا مقدمہ متوفیہ بچی کے والد روجی کولہی کے مدعیت میں جعلی عامل راموں کولہی اوراس کے ساتھی کانجو کولہی کے خلاف قتل کی نیت سے اغوا، زہریلی نشہ آور چیز پلانے، زناالجبر، قتل اور اقدام قتل کی دفعات کے تحت درج کیاگیا۔    

بعد ازاں پولیس نے دونوں ملزمان کو  گرفتار کرکے سخت سیکیورٹی میں مقامی عدالت میں پیش کردیا، عدالت نے دونوں ملزمان کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا۔

عدالت نے پولیس کو ملزمان کا میڈیکل کراکر رپورٹ پیش کرنے کا حکم  دیا،  متاثرہ 13 سالہ بچی دھنی کوعلاج کے لیے حیدرآباد کے سول ہسپتال منتقل کردیاگیا۔

دوسری جانب میرپورخاص میں جعلی عامل سے منسوب مبینہ جنسی زیادتی کے افسوسناک واقعے کا وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی میرپورخاص سے فوری طور پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔

وزیر داخلہ سندھ نے ایک لڑکی کی ہلاکت اور دوسری متاثرہ لڑکی کی تشویشناک حالت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ لڑکی کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

ضیاء الحسن لنجار نے ہدایت کی کہ واقعے کی ہر پہلو سے شفاف اور میرٹ پر تحقیقات کی جائیں اور کسی بھی ذمہ دار کو رعایت نہ دی جائے۔ انہوں نے جعلی عاملوں اور عوام کو دھوکا دینے والے عناصر کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں، قانون پوری قوت سے حرکت میں آئے گا۔

انہوں نے ہدایت کی کہ واقعے کے تمام شواہد محفوظ کرکے مضبوط چالان عدالت میں پیش کیا جائے، جبکہ ایس ایس پی میرپورخاص کو تحقیقات کی مسلسل نگرانی اور پیش رفت سے آگاہ رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

Load Next Story