نسلہ ٹاور گرانے کا فیصلہ واپس لینا خوش آئند، امید ہے آئندہ ایسے فیصلے نہیں ہوں گے، سعید غنی

سابق چیف جسٹس کے فیصلے پر آواز اٹھانے پرمیرے خلاف توہین عدالت کاکیس بنا، فخر ہے میں عوام کے ساتھ کھڑارہا، صوبائی وزیر

فوٹو: فائل

سندھ کے صوبائی وزیر محنت و افرادی قوت سعید غنی نے وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے نسلہ ٹاور گرانے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ واپس لینے کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ مجھے اپنے مؤقف پر فخر ہے اور امید ہے کہ عدالتیں آئندہ فیصلے کرتے ہوئے آئین، قانون اور عوام کے نقصان کو مدنظر رکھیں گی۔

وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے ماضی میں چیف جسٹس آف پاکستان کے متعدد فیصلوں کو واپس لینے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی عدالت نے غلط فیصلے کو واپس لےکر اچھا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں چیف جسٹس آف پاکستان کے نسلہ ٹاور، پویلین اینڈ اور رہائشی عمارتوں کو مسمار کرنے کے  معاملے پر آواز اٹھانے پر میرے خلاف توہین عدالت کا کیس بھی بنا لیکن مجھے اس پر فخر ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ کھڑا رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ امید ہے آئندہ عدالتیں ایسے فیصلے کرتے وقت آئین، قانون اورعوام کے نقصان کو مدنظر رکھیں گی کیونکہ ماضی کے  فیصلوں سے لوگوں کو مالی اور ذہنی نقصان ہوا اور معیشت کو بھی نقصان پہنچا۔

سعید غنی نے کہا کہ راشد منہاس روڈ پر 2021 میں اربوں روپے کا انفرا اسٹرکچر عدالت کے حکم پر توڑ کر ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا، اس وقت بھی میرا یہ مؤقف تھا کہ اگر تعمیرات میں غلطی تھی تو آپریٹرز سے واپس لے کر حکومت عوامی فلاح کے لیے استعمال کر سکتی تھی۔

صوبائی وزیرنے کہا کہ نسلہ ٹاور کو بھی توڑنے کا حکم دیا گیا اس وقت بھی میں نے کہا تھا کہ بلڈر اور افسران کے خلاف کارروائی کریں لیکن عام لوگوں کو بے گھر نہ کریں، جنہوں نے اپنی جمع پونجی سے فلیٹ خریدے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان کے ان فیصلوں سے کراچی میں تعمیراتی کاروبار رکا، لوگوں کی بکنگ ڈوب گئیں اور شہریوں کا سرکاری اداروں اور فیصلوں سے اعتماد اٹھ گیا۔

سعید غنی نے کہا کہ اس معاملے پر آواز اٹھانے پر میرے خلاف توہین عدالت کا کیس بھی بنا لیکن مجھے اس پر فخر ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ کھڑا رہا، امید ہے آئندہ عدالتیں ایسے فیصلے کرتے وقت آئین، قانون اور عوام کے نقصان کو مدنظر رکھیں گی۔

Load Next Story