کراچی: ڈاکٹرز کی غفلت، والدین پر قیامت ٹوٹ پڑی، 2بیٹوں کے بعد بیٹی میں بھی ایچ آئی وی کی تصدیق

گزشتہ ماہ 12سالہ اور 3 سالہ بیٹے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی تھی

ولیکا اسپتال میں مبینہ طبی غفلت سے مزید دو معصوم بچیوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوگئی ، متاثرہ بچوں کی تعداد 80 تک پہنچ گئی۔

سندھ ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن (SESSI) کے کلثوم بائی ولیکا اسپتال سے منسلک مبینہ ایچ آئی وی منتقلی کے معاملے میں مزید دو معصوم بچیوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوگئی، جس کے بعد اس واقعے سے متاثرہ بچوں کی مجموعی تعداد 80 تک پہنچ گئی ہے۔

صوبائی وزیر محنت و افرادی قوت سعید غنی اس سے قبل 78 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق کرچکے ہیں، تاہم اب سامنے آنے والے دو نئے کیسز نے متاثرہ خاندانوں کی پریشانی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

متاثرہ 9 سالہ بچی کے والد عرفات نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے تین بچے ہیں کچھ ماہ قبل انکے 12 سالہ اور 3 سالہ بیٹوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ اب 9 سالہ بیٹی کا ٹیسٹ بھی مثبت آگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی چیسٹ انفیکشن کے باعث 2025 کے آخر میں ولیکا اسپتال میں زیر علاج رہی تھی۔

تاہم طبیعت مسلسل خراب رہنے پر ایچ آئی وی ٹیسٹ کروایا گیا جس کی رپورٹ مثبت آئی۔ والد کے مطابق اب ان کے تینوں بچے ایچ آئی وی سے متاثر ہوچکے ہیں، جس سے پورا خاندان شدید ذہنی اذیت کا شکار ہےدوسرا کیس میٹرول کالونی کی رہائشی 3 سالہ بچی کا سامنے آیا ہے۔

بچی کے والد محمد امین نے بتایا کہ ان کی بیٹی کا علاج بھی ولیکا اسپتال میں ہوا تھا۔ طبیعت بگڑنے پر مختلف طبی معائنے کرائے گئے، جس کے بعد ایچ آئی وی ٹیسٹ مثبت آیا۔ والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔دونوں نئے کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرہ خاندانوں میں شدید تشویش پائی جارہی ہے، جبکہ ضیا کالونی اور میٹرول کالونی کے رہائشی بھی خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔

والدین کا کہنا ہے کہ جن بچوں کا ولیکا اسپتال میں علاج ہوا ہے، ان کے بھی فوری اسکریننگ ٹیسٹ کرائے جائیں تاکہ مزید ممکنہ متاثرہ بچوں کی بروقت تشخیص ہوسکے۔

متاثرہ خاندانوں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام متاثرہ بچوں کو مفت اور معیاری علاج، ادویات اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جائے، جبکہ اس سانحے کے ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لا کر متاثرہ خاندانوں کو انصاف دیا جائے۔

Load Next Story