لسانی گروہ سر اٹھا رہے ہیں، اداروں کو پالیسی درست کرنا ہوگی، حافظ نعیم الرحمان

جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کا ملک میں دہشت گردی کی لہر پر تشیوش کا اظہار

فوٹو: جماعت اسلامی فیس بک

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ لسانی گروہ سر اٹھا رہے ہیں، اداروں کو پالیسی درست کرنا ہوگی، آزاد کشمیر اور بلوچستان میں حالات انتہائی خراب ہیں جس پر جماعت اسلامی خاموش نہیں رہ سکتی۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کی زیر صدارت مرکزی مجلس شوریٰ کا ہنگامی اجلاس لاہور میں منعقد ہوا جس میں ملک بھر سے مرد و خواتین اراکین نے شرکت کی۔ مرکزی شوریٰ نے ملک میں بڑھتی دہشت گردی کی لہر پر تشویش کا اظہار کیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے، حکومت پاکستان کو افغانوں سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے آزاد کشمیر کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے سیاستدانوں کو غیر مؤثر بنا دیا ہے، اسمبلی میں راتوں رات تبدیلیاں کر کے اکثریت کو وزیر و مشیر بنا دیا گیا، مسائل کا حل تشدد کے بجائے مذاکرات میں ہے۔

بلوچستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالات انتہائی خراب ہیں اور جماعت اسلامی خاموش نہیں رہ سکتی، مرکزی شوریٰ نے مہنگائی میں اضافے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ تیل، بجلی اور گیس غریب کی پہنچ سے دور ہو چکے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے ہدایت کی کہ جماعت اسلامی کو اپنا اثر و رسوخ بڑھانا ہوگا اور ہر محاذ پر متحرک کردار ادا کرنا ہوگا۔ آئندہ ماہ ہونے والے کینٹونمنٹ انتخابات میں جماعت اسلامی بھرپور حصہ لے گی، جبکہ بلدیاتی انتخابات کی تیاری ابھی سے شروع کی جائے، جماعت اسلامی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے آزاد کشمیر کے لیے بھرپور کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کا نظام چلانے والوں کو شکست ہوئی ہے اور اس کا کریڈٹ فلسطینیوں کی استقامت کو جاتا ہے۔امریکا اور اسرائیل کے ناقابل شکست ہونے کا تاثر ختم ہو چکا ہے، ایرانی قوم نے بھی بھرپور مزاحمت کا مظاہرہ کیا۔ ایران میں تقسیم کا پروپیگنڈا غلط ثابت ہوا اور قوم متحد نظر آئی، امریکی صدر  نے خود کو نہیں بلکہ امریکا کو مذاق بنا دیا ہے۔

Load Next Story