نمائندہ

منتخب ہونے کے بعد تمام نمائندے صرف اور صرف اپنی ذات کے گرد گھومتے ہیں

لفظ نمائندہ کے بنیادی معنی رکن یا ترجمان کے ہیں، یہ ایسا شخص ہوتا ہے جو کسی دوسرے فرد گروہ یا ادارے کی جانب سے بات کرنے فیصلہ کرنے یا ان کی نمائندگی کرنے کا اختیار رکھتا ہو، جب انتخابات منعقد ہوتے ہیں تو تمام سیاسی جماعتیں اپنے اپنے نمائندے انتخابات میں کھڑے کرتے ہیں ۔

صوبائی اور قومی سطح پر نمائندے منتخب ہو کر ایوان اقتدار میں آتے ہیں۔ انتخابات سے قبل تمام سیاسی جماعتیں بڑے بڑے وعدے، دعوے اور نعرے لگاتی ہیں۔ تقریبا تمام ہی سیاسی جماعتیں معاشی خوشحالی، صحت ،تعلیم ،روزگار، امن اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے دعوے کرتی ہیں مگر بد قسمتی سے انتخابات کے بعد تمام وعدے اور دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور عوام کے منتخب کردہ نمائندے عوام کو ہی سرے سے بھول جاتے ہیں۔

منتخب ہونے کے بعد تمام نمائندے صرف اور صرف اپنی ذات کے گرد گھومتے ہیں۔ عوام دن بدن بدحال اور محرومیوں کا شکار ہوتے جاتے ہیں اور ان کے منتخب کردہ نمائندے امیر سے امیر ہو جاتے ہیں، یہ کیسا غیر فطری نظام ہے کہ جن کو منتخب کر کے ہم ایوان اقتدار میں لاتے ہیں، وہی ہمیں بے سہارا ولا چار کر دیتے ہیں کیا پاکستان کا قیام اس لیے ہوا تھا؟

کیا ہمارے سیاسی اکابرین جنہوں نے پاکستان کے لیے جدوجہد کی قربانیاں دیں ، پاکستان اس کا ثمر ہے۔ عوام اپنے منتخب کردہ نمائندوں سے یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ انھیں ان کے بنیادی معاشی حقوق کیوں نہیں دیے گئے، جمہوریت ہو یا پھر آمریت ان دونوں نظاموں نے قیام پاکستان سے لے کر آج تک پاکستان کا بیڑا غرق کیا ہے اور عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔

اپنے منہ میاں مٹھو بننے والے ہمارے سیاسی نمائندے درحقیقت رنگ باز ٹولے ہیں جو صرف اپنے مفاد کے لیے جیتے ہیں۔ پاکستان کا بچہ بچہ قرض میں ڈوبا ہوا ہے۔ سیاسی اشرفیہ نے مل کر ملک خداداد کا بیڑا غرق کر دیا ہے ، قوم بہت مشکل میں ہے۔

قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہمارے منتخب کردہ نمائندے بس ایک ہی بات کا راگ الاپتے ہیں کہ پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے جب کہ اس کے برعکس ان کی زندگیوں میں ان کے رہن سہن میں خوشحالی ہی خوشحالی ہے ۔

عوام یہ سوال پوچھتے ہیں کہ ان کا کیا قصور ہے ۔پاکستان میں سب کچھ موجود ہے یہاں پر ہر قسم کے وسائل معدنیات، زراعت اور بہت کچھ موجود ہے۔ اس کے باوجود ہمارے منتخب کردہ نمائندوں نے پاکستان کو مسائل کا گھر بنا دیا ہے ،کسی ایک سیاسی پارٹی نے پاکستان کو تہس نہیں کیا، یہاں تقریبا تمام ہی سیاسی پارٹیاں ذمے دار ہیں ان کا گناہ یہ ہے کہ ان کو عوام نے منتخب کیا ایوان اقتدار میں لائے مگر انھوں نے عوام کو کچھ بھی سہولیات نہیں دی، کچھ بھی ڈلیور نہیں کیا ۔

9 کروڑ عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے میں مجبور ہیں تین سے چار کروڑ بچے تعلیم سے محروم ہیں اور کروڑوں عوام صحت کی بنیادی سولیات سے محروم ہے۔ روٹی، کپڑا اور مکان کہاں کا نعرہ ،ووٹ کو عزت دو کہاں کا نعرہ تبدیلی آرہی ہے، یہ سب چیزیں عوام کو قیام پاکستان سے لے کر آج تک صرف اور صرف بے وقوف بنا رہے ہیں ۔

اب عوام الناس کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اپنے اندر شعور پیدا کرے وہ حق و سچ کا فیصلہ اور تعین کریں ان کو چاہیے `ایک سمت مقرر کریں کہ کس طرح پاکستان کو ایک خود مختار معاشی آزاد سلطنت میں تبدیل کیا جائے۔

اس کے لیے ضروری ہے اندرونی تبدیلی، جب داخلی تبدیلی آ ئے گی، تب خارجی تبدیلی خود بخود پیدا ہو جائے گی باحیثیت قوم ہمیں اپنی اصلاح کی ضرورت ہے ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا پڑے گا۔ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور ہمارے سیاستدان کہتے ہیں کہ پیٹ پر پتھر باندھ لو ،ایک روٹی کی جگہ آدھی روٹی کھا لو ،کچھ پی ٹی آئی والے حضرات بھی کہتے تھے کہ گھبرانا نہیں ہے ۔

پاکستان کے عوام نے تقریبا سب کو آزما لیا ہے، اب وقت آ چکا ہے کہ عوام بیدار ہوں، اہل دانش کی بھی یہ ذمے داری ہے کہ وہ عوام میں شعوری تحریک کا آغاز کریں۔ پاکستان کو تحریک معاشی آزادی کی سخت ضرورت ہے ، ملک پر قرض دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، ہمارے حکمرانوں کے پاس بس ایک ہی فارمولا ہے قرض لو اور سود کی شکل میں دوبارہ آئی ایم ایف کو واپس کرو ۔

نہ ہماری خارجہ پالیسی ہے اور نہ معاشی پالیسی ۔ہم دوسروں کے اشاروں پر حکومت کرتے ہیں اور یہ سلسلہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک جاری و ساری ہے۔ مہنگائی و بے روزگاری کو ختم کرنا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے، حکومت کو فوری طور پر مہنگائی پر کنٹرول کرنا ہوگا، اس کے لیے ضروری ہے حکومت فوری طور پر اشیائے ضروریہ کھانے پینے کی اشیاء پر ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ تمام قسم کے ٹیکس ختم کرے ۔

غریب دو وقت کی روٹی نہیں کھا سکتا ،حکومت فوری طور پر اشیا ضروریہ سے ٹیکس ختم کرے کم از کم یہ کرنے سے غریب دو وقت کی روٹی تو سکھ سے کھا سکے ۔ ہمارے تمام سیاسی نمائندے اور حکمران عوام سے مخلص نہیں ہے ،اتنا عوام کو تنگ نہ کریں کہ عوام سڑکوں پر نکل آئیں اور بڑے بڑے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیں ،ایسا نہ ہو کہ انقلاب جس کا سیاسی نمائندوں کو گمان بھی نہیں ہے سر پر کھڑا ہو پھر عوام الناس کچھ بھی نہیں دیکھیں گے اور سب کچھ بہا کر لے جائیں گے، لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی نمائندے جو اپنے آپ کو عوامی نمائندے کہتے ہیں۔

عوام کو سہولیات دیں، ان کا بنیادی حق دے دیں، انھیں تعلیم و صحت خوراک دے دیں، کسی کو اتنا تنگ مت کریں کہ وہ تنگ آ کر انتہائی اقدام کی طرف گامزن ہو جائے، لہٰذا میں حکومت وقت سے یہ اپیل کرتا ہوں اس سلسلے میں سنجیدگی سے سوچیں، بس بہت ہوا اب عوام کے ساتھ یہ مذاق کا سلسلہ بند کریں اور انھیں ان کا بنیادی معاشی حق دیں، خوشحالی دیں، تعلیم و صحت دیں خدارا سیاسی پارٹیاں ہوش کے ناخن لیں،

اب وقت بدل چکا ہے ٹیکنالوجی میں جدت آچکی ہے ،آپ پابندیاں تو لگا سکتے ہیں، اہل قلم پر میڈیا پر لیکن اب اے آئی اور سوشل میڈیا کا زمانہ ہے ، سب کو سب کچھ پتہ ہے۔ عوام خاموش ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ بے شعور ہیں ۔

عوام کی اپنے ہر دل عزیز فیلڈ مارشل سے یہ اپیل ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں اور سیاسی جماعتوں کو بٹھا کر ایک معاشی روڈ میپ پر غور و فکر کریں۔ معاشی آزادی پلیٹ میں رکھ کر کوئی نہیں دے گا، اس کے لیے عملی جدوجہد کی ضرورت ہے اور باہر نکلنے کی ضرورت ہے ، اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنا بھی تو ایک جہاد ہے، لہٰذا قوم اب معاشی جہاد کی طرف گامزن ہو اور اپنے بنیادی معاشی حقوق کے لیے عملی جدوجہد کرے۔

پاکستان میں کچھ جگہوں پر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ عوام اپنے جس نمائندے کو منتخب کرتے ہیں ،جادو کی چھڑی اس کی جگہ کسی اور کو بٹھا دیتی ہے، یہ بھی عوام کے ساتھ مذاق ہے۔ عوام جس کو ووٹ دیں، خدارا اسے ہی ایوان اقتدار میں آنے دیں۔ جس کا جو مینڈیٹ ہے ،اسے اس کا مینڈیٹ ملنا چاہیے۔

Load Next Story