قطر نے سمندری سرگرمیاں غیر معینہ مدت تک معطل کر دیں، ایرانی حملوں کی شدید مذمت
دوحہ: قطر نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ملک بھر میں بیشتر سمندری سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں قطر کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
قطری وزارتِ ٹرانسپورٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق عوامی تحفظ کے پیش نظر تمام تفریحی کشتیوں، ماہی گیری کی کشتیوں، جیٹ اسکیز اور دیگر چھوٹی سمندری گاڑیوں کی نقل و حرکت فوری طور پر روک دی گئی ہے۔ یہ پابندی فوری طور پر نافذ العمل ہے اور آئندہ اطلاع تک برقرار رہے گی۔
وزارت نے واضح کیا کہ بین الاقوامی بحری معاہدوں کے تحت چلنے والے تجارتی اور بین الاقوامی جہاز اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے اور وہ مقررہ قوانین اور ضابطوں کے مطابق اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں گے۔
قطری حکام نے شہریوں اور کشتی مالکان سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری ہدایات پر مکمل عمل کریں، جبکہ کسی بھی نئی پیش رفت سے متعلق معلومات صرف سرکاری ذرائع سے حاصل کریں۔
دوسری جانب قطر کی وزارتِ خارجہ نے ایران کے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں قطر کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ ایران کی حالیہ کارروائیاں نہ صرف خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں بلکہ موجودہ کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔ قطر نے ایران کو ان حملوں کے نتائج کا مکمل ذمہ دار قرار دیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ قطر اپنے دفاع اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق مناسب اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ دوحہ نے خطے میں فوری جنگ بندی، کشیدگی کے خاتمے اور سفارتی مذاکرات کی بحالی پر بھی زور دیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز اور خلیجی خطے میں حالیہ کشیدگی کے باعث بحری نقل و حمل، توانائی کی ترسیل اور علاقائی سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے، جس کے پیش نظر خلیجی ممالک مسلسل حفاظتی اقدامات کر رہے ہیں۔