نئی تحقیق میں وقتی فاقوں سے متعلق اہم انکشاف!

18 ماہ کے دوران انٹرمٹنٹ فاسٹنگ سے وزن میں اتنی ہی کمی آئی جتنی روزانہ کیلوریز محدود کرنے والی غذا سے آئی تھی: تحقیق

ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ (وقفے وقفے سے فاقہ کرنا) سے متعلق اہم انکشاف کیا گیا ہے۔

آسٹریلیا کی ایڈیلیڈ یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق میں کہ 18 ماہ کے دوران انٹرمٹنٹ فاسٹنگ سے وزن میں اتنی ہی کمی آئی جتنی روزانہ کیلوریز محدود کرنے والی روایتی غذا سے آئی تھی۔ تاہم، اس طریقے پر عمل کرنے والے افراد نے ہر وقت کھانے پر نظر رکھنے اور کیلوریز گننے کے ذہنی دباؤ کو کم محسوس کیا۔

تحقیق کی سربراہ پروفیسر لیونی ہیلبرون کے مطابق زیادہ تر افراد وزن کم کرنے والی غذا اس لیے چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ اس پر مستقل عمل کرنا مشکل ہوتا ہے نہ کہ اس لیے کہ وہ مؤثر نہیں ہوتی۔

محققین کا کہنا ہے کہ روزانہ کیلوریز گننے اور ہر کھانے میں خود کو محدود رکھنے کا عمل ذہنی اور جذباتی طور پر تھکا دینے والا ثابت ہو سکتا ہے جبکہ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ بعض افراد کے لیے نسبتاً آسان اور دیرپا متبادل بن سکتی ہے۔

پروفیسر لیونی ہیلبرون نے کہا کہ اگرچہ بہت سی غذائیں وزن کم کرنے میں مدد دیتی ہیں لیکن ان پر مستقل عمل کرنا مشکل ہوتا ہے جس کی وجہ سے طویل مدت تک وزن برقرار رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق انٹرمٹنٹ فاسٹنگ ایسے افراد کے لیے خاص طور پر مفید ہو سکتی ہے جنہیں روزانہ کیلوریز گننے اور ہر وقت خوراک محدود رکھنے میں دشواری پیش آتی ہے۔

یہ تحقیق طبی جرنل کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہوئی ہے۔

Load Next Story